Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکی ایٹم بم پولینڈ منتقل کیے گئے تو ماسکو واشنگٹن تعلقات بڑے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں:روس

روسی سینیٹرالیکسی پوشکوف نے امریکہ کوخبردار کیا ہے کہ اگر جرمنی میں موجود امریکی ایٹم بموں کو پولینڈ منتقل کیا گیا تو ماسکو واشنگٹن تعلقات بڑے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بلغارین ملٹری ویب سائٹ کے مطابق روسی سینیٹر الیکسی پوشکوف نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں واشنگٹن کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اور پولش سیاستدانوں کو انیس سو باسٹھ کے بحران کیربیئن کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ انیس سو باسٹھ میں سابق سوویت یونین نے کیوبا میں اپنے ایٹمی میزائل نصب کیے تھے جس کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔ الیکسی پوشکوف نے کہا کہ لگتا ہے کہ موجودہ امریکی حمکرانوں کو اس واقعے کا علم نہیں ہے یا اسے بھول گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پولینڈ میں امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب بھی کیربیئن بحران جیسا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ جبکہ وارسا میں متعین امریکی سفیر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اگر جرمنی اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی اور نیٹو کو کمزرو کرنے کوشش کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی کی حثیت سے پولینڈ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ہاں جگہ دینے کے لیے تیار ہوگا۔

خیال رہے کہ جرمنی انیس سو پچاس سے امریکہ کے درجنوں ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ہاں شیلٹر فراہم کر رہا ہے جن میں کم سے کم بیس بی۔ اکسٹھ قسم کے خطرناک ایٹم بم بھی شامل ہیں

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

twenty − four =

Contact Us