جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

انڈیا کا امریکہ کے بعد آسٹریلیا کے فوجی اڈے استعمال کرنے کے باہمی معاہدے پر دستخط

پاک چین دوستی اور جنوبی ایشیا کے دیگرعلاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات شدید خراب ہونے پر انڈیا امریکہ کے بعد آسٹریلیا کی جھولی میں بھی جا بیٹھا۔ دونوں ممالک نے جمعرات کے روز ایک اہم عسکری معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ہزاروں میل کی مسافت پر موجود آسٹریلیا اور انڈیا ضرورت کے وقت رسدی تعاون فراہم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکیں گے۔ عالمی سیاست اور دفاع پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد چین کے خطے میں بڑھتے معاشی و عسکری وزن کو ٹکر دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے بحری جہاز اور لڑاکا طیارے ایک دوسرے کے اڈے استعمال کرتے ہوئے ایندھن کی بھرائی، اور کسی خرابی کی صورت میں بحالی کا کام کر سکیں گے۔ بھارت کا اس سے قبل ایسا ایک معاہدہ امریکہ کے ساتھ بھی موجود ہے۔ اور اس کا مقصد بھی سرحدی حفاظتی تعاون کے نام پر دراصل چین کی خطے میں ابھرتی معاشی اور عسکری طاقت کو لگام دینا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا بھارت کو خطے میں اپنی چودھراہٹ کو برقرار رکھنے کے لیے اور چین کی ابھڑتی معاشی و عسکری ترقی کے خوف میں بطور آلہ کار استعمال کر رہی ہیں، جس سے خطے کی سیاست میں شدید کشیدگی کا خطرہ ہے۔ تاہم تینوں ممالک خصوصاً بھارت چین کے ساتھ شدید تجارتی خسارے کا شکار ہے، جس کا فی الوقت کسی کے پاس کوئی حل موجود نہیں۔

عالمی سطح پر تجارتی و دفاعی کشیدگی بڑھنے کے تناظر میں باہمی رسدی تعاون کا یہ معاہدہ جلد بازی میں کیا گیا۔ جس کے لیے کسی باقائدہ اجلاس کا اہتمام کیے بغیر دنیا بھر میں کورونا کی ہلاکت خیزیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ورچوئل سربراہی اجلاس میں دستخط کر کے معاہدے کو عملی شکل دی گئی۔

معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے کیے جبکہ اس موقع پر بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سے آسٹریلیا اور انڈیا میں عسکری تعاون بڑھانے کا دروازہ کھلے گا، جبکہ انہوں نے اس سال بحر ہند اور بحر الکاہل میں امریکہ اور جاپان کی سہہ ملکی عسکری مشقوں میں آسٹریلیا کو شامل کرنے کا عندیا بھی دیا ہے۔ ان سہہ ملکی مشقوں پر 2007 میں چین نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں