منگل, ستمبر 29 Live
Shadow

سلییمانی کے قتل پر ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری: ایران کا انٹرپول سے رابطہ

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث 36 امریکیوں کی نشاندہی کی ہے جن کی گرفتاری کے لیے ایران انٹرپول چینلز سے رابطہ کرے گا ۔ مشتبہ افراد کی فہرست میں سرفہرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے القدس فورس کے اعلیٰ کمانڈر کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کے نام انٹرپول پر بھیجے گئے ہیں ،

ایرانی اہلکار نے پیر کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئےاس قتل کو ایک “دہشت گردی کی کارروائی” قرار دیا اور کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں ۔ان کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ بغداد میں سلیمانی کے قتل سے ایک دن قبل مظاہرین کے ہجوم نے امریکی سفارت خانے میں توڑ پھوڑ کی تھی ۔ ہجوم پر قابو پاتے ہوئے اسے سفارتی مشن کے عملے پر حملہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نےعراق میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے دوران سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر متعدد حملوں کے بعد صورتحال مزید بگڑگئی جس سے یہ انتقامی کارروائی کا چکر دکھائی دینے لگا۔

واضح رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری کو عراق کے دورے کے دوران اس وقت مارا گیا تھا ، جب اس کی کار پر امریکی فضائی حملہ ہوا تھا اس حملے میں ایک ممتاز عراقی کمانڈر اور متعدد دیگر افراد بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس حملے کا جواز یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ ایرانی جنرل امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

ایران میں جنرل قاسم سلیمانی کی آخری رسومات قومی ہیرو کی طرح ادا کی گئیں ، تقریب کے دنوں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ سلیمانی نے ان شیعہ ملیشیاؤں کی تنظیم اور حمایت کی تھی جنھوں نے عراق اور شام میں دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس ، سابقہ ​​داعش) کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف تہران کے تصادم کے حوالے سے ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے تھے۔اس قتل کے نتیجے میں عراق میں امریکہ کے ساتھ دشمنی میں اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ عراقی پارلیمنٹ نے عراقی سرزمین سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم ، ابھی تک عراقی حکومت کی طرف سے اس ہدایت پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں