جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

عمران خان حکومت 10 ہزار ارب کا قرضہ لے چکی: اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت اب تک 10 ہزار ارب روپے کا قرضہ لے چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کا قرض مئی کے آخر تک اوسطاً 14.2 ارب یومیہ کے حساب سے 34.5 کھرب روپے ہو گیا ہے۔ حکومت کا 34.5 کھرب روپے کا قرض ان واجبات کے علاوہ ہے جس کیلیے حکومت بالواسطہ قرض دہندگان کے مقروض ہے، اس طرح مجموعی ملکی قرض مرکزی حکومت کے قرض سے کہیں زیادہ ہے ،جس کے اعداد و شمار اگلے ماہ دستیاب ہوں گے۔

مارچ 2020 کے اختتام تک مجموعی ملکی قرض بڑھ کر 35.2 کھرب روپے ہوچکا تھا، جو گذشتہ مئی میں مرکزی بینک اور سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کے قرض اور واجبات کے علاوہ 29.8 کھرب روپے تھا۔

رپورٹ کے مطابق کرنسی کی قدر میں کمی، ٹیکس محصولات میں کمی اور کورونا وائرس کے تدارک کیلئے ہونے والے اخراجات سے بھی حکومت کے قرض میں 15.8 فیصد یا 4.7 کھرب روپے اضافہ ہوا۔

تاہم ضمنی گرانٹ کی بجٹ کتاب سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران مئی سے جون تک جو قرضہ حاصل کیا، اس میں کورونا وبا کے خلاف 289.4 ارب روپے خرچ کئے گئے جو محض 6 فیصد بنتا ہے، جو خطے میں بھی سب سے کم ہے۔ اور تو اور اس میں بڑی رقم انصاف پروگرام کی مد میں غیر شفاف انداز میں تقسیم کی گئی۔

یوں پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد مجموعی طور پر ملکی قرضوں میں 10.2 ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق قرضوں میں 44 فیصد کا اضافہ ملک کے لئے انتہائی تشویش ناک ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں