اتوار, اکتوبر 25 Live
Shadow

کشمیر اور وقت کی ضرورت

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جب تک ہم اپنی شہ رگ کو ظالموں کے پنجے سے نہیں چھڑاتے اس وقت تک ہمارا پاکستان وہ پاکستان نہیں ہے جس کا خواب مصور پاکستان علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور اس خواب کو نقشہ دنیا پر کندہ کرنے کے لئے قائداعظم نے شب وروز انتھک محنت کی تھی کشمیر کو اسی لئے پاکستان کی شہ رگ کہا گیا ہے کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اس حقیقت کی آگہی ہر محب وطن اور ذی شعور پاکستانی کو ہے

یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے کشمیر کی تحریک آزادی میں کشمیری عوام کا نہ صرف اخلاقی طور پر ساتھ دیا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ان کی حمایت کا مظاہرہ کیا ہے کشمیر کی جدوجہد آزادی نے جو بھی رخ اختیار کیا ہے پاکستانی حکومت اور عوام نے اس کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور کشمیری عوام کے ہم قدم رہے ہیں

حکومت پاکستان کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو کشمیری عوام کے لئے قابل قبول ہو ایسا کوئی بھی حل اور کوئی بھی سمجھوتہ قابل عمل ہو ہی نہیں سکتا جو کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کا حقیقی ترجمان نہ ہو آزادی اور حق خود ارادیت کا جذبہ برسوں تک برسرپیکار رکھتا ہے اور کوئی بھی قوم آزادی کے علاوہ کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرتی

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کی جدوجہد میں شامل ہو کر منزل آزادی کی طرف گامزن ہیں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کسی طور یہ نہیں چاہتے کہ کشمیری تحریک آزادی کی روح مجروح ہو اور کسی بھی ایسے فیصلے یا سمجھوتے کا حصہ بننا نہیں چاہتی جس میں کشمیریوں کی مرضی شامل نہ ہو مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیری چاہتے کیا ہیں ان کی خواہشات کا ترجمان کون ہے اور ان کے جذبات کی عکاسی کون کر رہا ہے ان کے خیالات کی نمائندگی کس کے ذمہ ہیں اور کشمیریوں کے نقطہ نظر کو کون سا طبقہ فکر اجاگر کر رہا ہے یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی فکر اور ذی شعور انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں مگر کشمیریوں سے جذبہ محبت کی بنا پر لفظوں میں نہیں ڈھلتے کیوں کہ جوش محبت ہوش پر غالب آ جاتا ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا ہے کیونکہ وہی قوم آزادی کے قابل تصور کی جاتی ہے جس نے فکروعقل کو اپنا شعار بنا کر آزادی کے لیے جدوجہد کی

کشمیری عوام کو بھی شعور و آگہی سے کام لیکر اپنی لیڈرشپ کی پہچان کرنا ہوگی اس وقت صورت حال یہ ہے جو بھی کشمیر اور کشمیریوں کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے وہی یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ فرد واحد ہے جو کشمیریوں کا حقیقی ترجمان ہے درحقیقت کوئی بھی کشمیر اور کشمیریوں کا حقیقی ترجمان نہیں ہے

اس امر سے حکومت پاکستان بھی آگاہ ہے اسی لئے ببانگ دہل اپنا موقف دہراتی ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام کو کوئی ایسا فیصلہ قابل قبول نہ ہوگا جو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کا ترجمان نہ ہو ہمیں اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرانا چاہیں کہ بحران اور سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے دانشمندی سے کام لینا ہوگا کیونکہ آج مسئلہ کشمیر کا پس منظر 1948 والے پس منظر جیسا نہیں رہا یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کسی صورت دہشت گردی کا نام نہیں دیا جا سکتا

کشمیریوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنا موقف بھارتی حکومت کے کانوں تک اور دنیا عالم کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے زور بازو کا مظاہرہ کریں تاکہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اانصافیوں اور ظلم کی گونج دنیا کے ٹھیکے داروں تک پہنچا سکیں

پاکستانی حکومت اور عوام کی درینہ خواہش ہے کشمیری آزاد فضا میں سانس لیں اس لئے ضروری ہے کہ سیاسی سماجی اور اقتصادی کمزوریوں کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دینا چاہیے اور نہ ہی ہمیں تاریخیں اور نظریاتی حیثیت سے انحراف کرنا چاہیے اتحاد تنظیم اور یقین محکم پر عمل کرتے ہوئے اپنی صفوں کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا اسی صورت میں ہماری آواز میں قوت پیدا ہو گی اور عالمی سطح پر ہماری شنوائی ہوگی
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اُٹھا یہ مقام انتہا ئے راہ نہیں

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں