ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

ہندوستانی وزیر دفاع کا دورہ ایران: مشرق وسطیٰ کی سیاست میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات

ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ہفتے کو ماسکو کا دورہ مکمل کرکے دو طرفہ بات چیت کے لیے ایران پہنچ گئے ہیں۔ ٹویٹر پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب بریگیڈیئر جنرل عامر حاتمی سے ملاقات کریں گے، جبکہ ملاقات کے بعد انہوں نے ملاقات کے ایجنڈے کا حوالہ بھی دیا۔

بھارتی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ باہمی دلچسپی کے امور پر ایرانی انتظامیہ سے بات ہوئی جس میں علاقائی سکیورٹی اور افغانستان شامل تھے۔

اس سے قبل ہندوستانی وزیر دفاع تین روزہ دورے پر روس میں موجود تھے جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے دفاع سے بھی ملاقاتیں کیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے ساتھ گذشتہ ہفتے لداخ میں ہونے والی تازہ ترین جھڑپ کے بعد روس اور ہندوستان کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر یہ پہلا رابطہ تھا۔ جبکہ ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

یاد رہے کہ ماسکو کے نئی دہلی اور بیجنگ دونوں کے ساتھ تاریخی دوستانہ تعلقات ہیں، تاہم ماضی قریب میں ہندوستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی تیزی کے بعد سے ماسکو میں بھی نئی دہلی کے سے متعلق تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔ اور پاکستان بھی علاقائی امن کے لیے قریبی ممالک سے تعلقات کو ترجیح دیتے ہوئے نئی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ماضی کے تجربات کی وجہ سے روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو تمام مغربی تحفظات کے باوجود ترجیح دے رکھی ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے راج ناتھ سنگھ کے بین الاقوامی دورے پر تبصرے میں کہا ہے کہ وزیر دفاع ایک ایسے وقت ایران کا دورہ کر رہے ہیں جب خلیج میں تہران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور دورے سے ہندوستان کے خلیجی ممالک سے نئے بڑھتے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہی خوف تھا کہ جمعے کے روز ایران روانگی سے قبل راج ناتھ سنگھ نے اپنے بیان میں خلیجی ممالک اور ایران کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک کو باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کرنا چاہیے۔

بھارتی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ؛ ’ہمیں خلیج کی صورتحال پر گہری تشویش لاحق ہے، اگر ہندوستان کشیدگی کم کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکے تو اسے خوشی ہو گی۔

یاد رہے کہ خلیج فارس میں حالیہ ہفتوں میں امارات، یمن، سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے رمیان ہونے والے متعدد واقعات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس میں سعودی عرب پر یکے بعد دیگرے حملے، ایران کی امریکی بیڑے کو ڈبونے کی مشق، ایران کے لائیبیریا کے تیل کے جہاز پر قبضہ، اور اماراتی معاملات پر بیان بازی کے ساتھ ساتھ دیگر واقعات شامل ہیں۔

ہندوستان ترکی کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں خرابی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور مارکیٹ کی ضروریات کے ساتھ ساتھ عسکری خدمات فراہم کرنے کی پیشکشیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ایسے میں ہندوستانی وزیر دفاع کے ایران کے دورے کے کیا اثرات ہوں گے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں