جمعرات, اکتوبر 22 Live
Shadow

جامعہ عبدالولی خان ٹائمز عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی پہلی جامعہ قرار، جامعہ قائداعظم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

دو ستمبر کو ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے دنیا کے 93 ممالک کی 1527 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی جاری کی، جس کے مطابق لندن کی جامعہ آکسفورڈ عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے، جبکہ پاکستان کی جامعہ عبد الولی خان نے جامعہ قائداعظم سمیت تمام پاکستانی جامعات کو ملکی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرنے والی معروف ویب سائٹ ’ٹائمز ہائر ایجوکیشن‘ نے عبدالولی خان یونیورسٹی کو پاکستان کی بہترین جامعہ قرار دیا ہے، یہی نہیں بلکہ مردان میں واقع اس یونیورسٹی نے دنیا بھر میں بھی 510ویں پوزیشن بھی حاصل کی ہے۔

تازہ ترین رینکنگ میں قائداعظم یوینورسٹی اسلام آباد نے ملک کی دوسری اور نسٹ یونیورسٹی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

ستمبر میں ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے دنیا کے 93 ممالک کی 1527 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی جاری کی تھی جس میں لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے مطابق درجہ بندی کے لیے پاکستان سے محض 17 یونیورسٹیوں نے درخواست دی تھی۔

یاد رہے کہ ٹائمز ہائیر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کو دنیا میں ’گولڈ رینکنگ‘کہا جاتا ہے کیونکہ یہ یونیورسٹیوں کی ریسرچ کے حوالے سے درجہ بندی کرتی ہے۔ 

انہوں نے بتایا: ’یونیورسٹیوں کا اصل کام تحقیق کرنا ہوتا ہے اورریسرچ ہی ایک یونیورسٹی کو اسے دوسرے اداروں سے منفرد بناتی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن سکوپس انڈیکس خود یونیورسٹیوں کا ریسرچ ڈیٹا جمع کرتا ہے۔ اور رپورٹ کے مطابق گزشتہ تعلیمی سال میں ’بین الاقوامی سطح پر سکوپس انڈیکس جریدوں میں پاکستان سے سب سے زیادہ مقالے عبدالولی خان یونیورسٹی، مردان کے اساتذہ کے شائع ہوئے ہیں۔

جامعہ عبدالولی خان، مردان میں اس وقت دوسو سے زیادہ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں، اور میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ سال اس میں مزید 100 پی ایچ ڈی کا اضافہ وہ جائے گا۔ کیونکہ بیشتراساتذہ جلد بیرون ملک سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس آجائیں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 2009 میں قائم ہونے والی عبدالولی خان یونیورسٹی نے پہلی مرتبہ عالمی درجہ بندی کے لیے اپنا نام بھیجا تھا، جب کہ سنہ 2017 اور 2018 میں اسے نیشنل ہائیرایجوکیشن کمیشن کی درجہ بندی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ جامعہ عبدالولی خان میں اساتذہ کی اکثریت دنیا کے نامور اداروں سے فارغ التحصیل ہے، یونیورسٹی کی انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر ادارے میں 436 اساتذہ ہیں، جن میں سے 226 پی ایچ ڈی اور 160 سے زائد بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں۔ اس سے اساتذہ کو عالمی اداروں کے ساتھ تعلق بنانے، وہاں کے اساتذہ سے مدد لینے اور مقالوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اپنے مقالوں کو بطور حوالہ استعمال کروانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اور یہی چیز ہے جو جامعہ عبدالولی خان کو پاکستان کی دیگر جامعات حتیٰ کہ جامعہ قائداعظم سے سبقت لے جانے میں مددگار ثابت ہوئی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں