اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

فیس بک کا سماجی میڈیا سے متعلق ترک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا فیصلہ: عالمی نشریاتی ادارہ

عالمی میڈیا کے مطابق فیس بک نے ترکی کے ڈیجیٹل میڈیا قوانین کی پاسداری سے انکار کر دیا ہے۔ چند ماہ قبل متعارف کروائے گئے قوانین پر پچھلے ہفتے سے عملدرآمد شروع کیا گیا تھا۔

قوانین کے تحت تمام سماجی ابلاغی ویب سائیٹوں کو ترکی میں اپنا ڈیٹا سرور رکھنا ہو ں گے، اور مقامی قوانین کی پاسداری کرنا ہو گی۔ تاہم مختلف عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق فیس بک نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قوانین کے تحت ترکی پاسداری نہ کرنے پرعالمی کمپنیوں کو جرمانہ کر سکتا ہے، ان پر پابندی لگا سکتا ہے یا انٹرنیٹ کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال کر ان کے استعمال کو سست کر سکتا ہے۔ جبکہ مقامی اشتہارات پر پابندی لگانے کا حق بھی ترک حکومت کے پاس موجود ہے۔

مقامی ابلاغی ماہرین کے مطابق ترکی میں فیس بک کے یومیہ دس لاکھ صارفین ہیں، حکومت کے ساتھ چپکلش کی صورت میں فیس بک کو بڑا کاروباری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

خبر پر فیس بک نے فی الحال کسی تبصرے سے انکار کیا ہے جبکہ دیگر کمپنیوں نے بھی تاحال اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us