ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

کوئی قانون ججوں اور جرنیلوں کو زمین لینے کا حق نہیں دیتا: جسٹس عیسیٰ

فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ’بیشتر پاکستانیوں کو بنیادی رہائش کی سہولت تک میسر نہیں ہے، ایسے میں ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے۔‘

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعرات کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کا فیصلہ سنادیا، جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کا زمین حاصل کرنے کے اختیار سے متعلق فیصلہ ختم کرتے ہوئے فیڈرل ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپیلیں منظور کرلی گئیں۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے رواں برس جنوری میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو 8 اکتوبر کو سنایا گیا۔

نوے صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 27 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ’بری، بحری اور فضائی افواج یا ان کے ماتحت کوئی بھی فوجی جتھہ رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتا۔‘

انہوں نے ماضی کا ایک قصہ بیان کرتے ہوئے لکھا: ’جب برطانوی جنرل گریسی پاکستانی فوج کو کمان کر رہے تھے تو ایوب خان نے پلاٹ لینے کی درخواست کی تھی۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی نے ایوب خان کو پلاٹ دینے سے انکار کر دیا تھا، حیران کن طور پر ایک برطانوی افسر نے اس ملک کی زمین کو اسی دھرتی کے سپوت سے بچایا۔‘

قاضی فائز عیسی نے لکھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ فوج میں ایسی ’سویٹ ہارٹ‘ ڈیلز کو قابلِ قبول بنایا گیا۔ انہوں نے حوالہ دیا کہ ’شجاع نواز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ فوج اور سول بیوروکریسی میں ایک سے زائد پلاٹس کا کلچر عام ہے۔‘

تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی عیسیٰ نے کہا کہ ’زمین کے حصول کی تین شرائط ہیں۔ پہلی شرط زمین عوامی مقصد کے لیے حاصل کرنا، دوسری شرط کے مطابق زمین کے حصول کا قانون ہونا چاہیے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ قانون میں زمین حاصل کرنے کے لیے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’ملک کا آئین اور کوئی بھی قانون ججوں اور افواج پاکستان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ زمین لیں۔ کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹس اور جج صاحبان زمین لینے کے حقدار ہیں۔ حکومت کا جج صاحبان کو پلاٹس دینا ان کو نوازنے کے مترادف ہے۔ عوام کی نظروں میں ججوں کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے خودمختار عدلیہ انتہائی ضروری ہے۔‘

اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ ’کوئی وکیل یا سرکاری ملازم ایک پلاٹ سے زیادہ لینے کا حقدار نہیں ہے۔ کسی مخصوص قانون کو شامل کیے بغیر وزیراعظم سمیت کوئی بھی اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرکے کسی کو پلاٹ نہیں دے سکتا، لیکن کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور جونیئر افسران کے لیے کم قیمت پلاٹ دستیاب ہونے چاہییں۔‘

قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ ’آئین کے تحت سرکاری، سول اور فوجی ملازمین مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ سول سرونٹس 60 سال، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس 62 سال جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’اگر ججوں کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں تو انہیں زندگی گزارنے کے لیے معقول پینشن دی جاتی ہے۔ مالی سال 21-2020 میں پینشن کی مد میں چار کھرب 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک کھرب 11 ارب روپے سرکاری ملازمین جبکہ تین کھرب 59 ارب روپے سے زائد کی رقم افواج پاکستان کے ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کی پینشن کے لیے رکھی گئی ہے۔‘

اضافی نوٹ کے مطابق: ’پینشن کی مد میں ادا ہونے ہونے والی رقم سویلین حکومت چلانے کے اخراجات کے تقریباً مساوی ہے۔ حکومت بیرون ممالک سے قرض لے کر خسارہ بڑھا رہی ہے۔‘

جسٹس عیسیٰ نے مزید لکھا کہ ’بیشتر پاکستانیوں کو بنیادی رہائش کی سہولت تک میسر نہیں ہے، ایسے میں ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے جبکہ جہاں تک عوامی فلاح کے لیے زمین حاصل کرنے سوال ہے تو یہاں آئین خاموش ہے۔ معیاری رہن سہن زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ یہ عوامل ثابت کرتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لیے ہاؤسنگ سکیم بنائی جا سکتی ہے۔‘

مہمان رپورٹ – مونا خان

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں