اتوار, نومبر 29 Live
Shadow

بچوں سے مزدوری کے مدعے پر افریقی سماجی کارکن کی اہم تحریر: عالمی ادارے مغربی تہذیبی تعصب سے نکل کر معاملے کو سمجھیں

بچوں کے کام اور مزدوری کرنے کے خلاف مغربی معاشرے میں ایک لمبے عرصے تک مہم چلتی رہی ہے، اور اس کے نتیجے میں عالمی اداروں کی مدد سے پوری دنیا خصوصآً ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک کی حکومتوں سے معاملے پر خصوصی قانون سازی کروائی جاتی رہی ہے۔ تاہم برطانوی نشریاتی ادارے گارڈین میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے شائع ہونے والے ایک مقالے میں بیانیہ اختیار کیا گیا ہے کہ قدرتی صلاحیت اور گھر کو چلانے کے لیے بچوں کا کام/مزدوری کرنا اتنا بھی غلط نہیں ہے، جتنا اسے سمجھا جاتا ہے، اور عالمی اداروں کو اس معاملے کو مغربی تہذیبی تعصب سے نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی طرف سے شائع ہونے والی تحریر بچوں کے حقوق کی ماہر اور عالمی تنظیم سے منسلک ایک خاتون نے لکھی ہے۔ جنوب مشرقی افریقی ملک سے تعلق رکھنے والی سماجی محقق کا کہنا ہے کہ بچپن میں وہ اپنے گھر پر سخت محنت کرتی تھیں، وہ گھر کے لیے دور دراز سے پانی بھر کر لاتیں، کھانا پکاتیں اور اپنے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال بھی کرتیں۔ خاتون لکھاری کا کہنا ہے کہ اس سب نے انہیں زندگی گزارنے کی بنیادی صلاحیتیں سکھائیں، اور انکی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ سب انکے پی ایچ  ڈی ڈاکٹر بننے اور دیگر کامیابیوں میں رکاوٹ نہ بن سکا۔

سماجی کارکن کا مزید کہنا ہے کہ ہم بچوں کی مزدوری کے حوالے سے عالمی قوانین کے تحت کس کام کو جرم مانیں اور کسے بنیادی قدرتی صلاحیتوں کو آگے پہنچانے کا عمل – اس میں فرق کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ لکھاری کے مطابق کارخانوں کے زبردستی بچوں کو کام پر لگانے کے علاوہ ہر معاشرے کا اپنا مقامی حوالہ ہی سب کچھ ہے، کیونکہ قانون کے تحت دیکھا جائے تو والدین ہی گھر کا نظام چلانے کے لیے بچوں سے سب سے زیادہ مزدوری کرواتے ہیں۔ تاہم مقامی تہذیب کے تحت بھی کسے جبری مزدوری کہا جائے اور کسے نہیں، اس معاملے کو بھی زیر بحث آنا چاہیے۔

واضح رہے کہ مزدوروں کی عالمی تنظیم کی تعریف کے تحت ایسا کوئی بھی کام جو بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ یا مداخلت کا باعث بنے طفل مزدوری کہلائے گا۔ اور اگر اس تعریف کے تحت دیکھا جائے تو والدین ہی گھر کے کاموں میں ضرورت کے لیے بچوں کی رسمی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ علم اور صلاحیتوں کی تعریف کو بھی مزید تفصیل سے زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔

افریقی خاتون نے تجویز کیا ہے کہ ان سارے حالات میں مغربی تہذیب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے تہذیبی تعصب سے نکل کر پوری دنیا کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

تحریر کے آخر میں خاتون محقق نے کہا ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ یہ تعلیم ہی تھی کہ جس نے انہیں اپنے آٹھ بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہونے کے باوجود سب کی زندگی بہتر بنانے میں انکی مدد کی، لیکن بچوں کی تربیت اور خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے عالمی اداروں کو تعصب سے نکلنا اور اہم اصطلاحات کی تعریف کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ تحریر میں بیان کیے گئے مدعے پر کہیں بحث شروع نہیں ہوئی، تاہم بہت سے قارئین نے تحریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل گیٹس فاؤنڈیشن افریقی بچوں اور غریب معاشروں کے سماجی و معاشی استحصال کے لیے عالمی کمپنیوں کو جواز فراہم کر رہی ہے۔

قارئین کا کہنا ہے کہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ گاؤں دیہاتوں میں جدید طریقوں کو اپنائے بغیر لوگوں کو غربت سے نکالنا ناممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے  لیے بچوں کو تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے، اور مزدوروں کی عالمی تنظیم بھی اسی عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی مزدوری کی  تعریف کرتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں