منگل, مئی 18 Live
Shadow
سرخیاں
فوج میں بڑھتے مارکسی نظریات پر تنقید: امریکی خلائی فوج کا کمانڈو برطرف، انتظامی کارروائی کا آغازمقبوضہ فلسطین: بے بس فلسطینیوں کی جانب سے قابض صیہونی افواج پر گاڑی چڑھا کر حملہ کرنے کے واقعات میں اضافہ، درجنوں قابض فوجی زخمی، 3 فلسطینی شہیدفرانس میں جرنیلوں کے بعد پولیس افسران کا خط بھی تشویش سے بھرا خط سامنے آگیا: ملک میں بڑھتی انتظامی ناکامی پر سیاسی حلقے پریشانچین سے معاشی میدان میں مقابلے میں ناکامی پر مغرب میں ایشیائی ملک کے خلاف پراپیگنڈا تیزغزہ میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے زیر استعمال عمارت پر بمباری: اے پی، الجزیرہ سمیت دنیا بھر سے مذمت، تحقیقات کا مطالبہامریکہ میں انوکھا عوامی سروے: کیا آپ شیر، ریچھ اور مگرمچھ سے مقابلے میں جیت سکتے ہیں؟ایران: سابق صدر احمدی نژاد نے بھی آئندہ صدارتی دوڑ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیےغلطیاں اور سبقمیرا کشمیر شبِ تاریک کے مشعل بردار سے محروم کر دیا گیاپاکستان سمیت دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے: یورپ میں صیہونی لابی کے زیر اثر گروہوں کے ساتھ جھڑپیں اور پولیس تشدد کے واقعات بھی درج – ویڈیو

کاراباخ جنگ کا خاتمہ: روسی مصالحت میں امن معاہدے پر دستخط – آزربائیجان میں فتح کا جشن، آرمینیا میں عوام کا پارلیمنٹ پر پتھراؤ

آرمینیا نے آزربائیجان کے سامنے گھٹنے ٹھیک دیے ہیں، ملکی قیادت نے بھی واضح اور باقائدہ شکست تسلیم کر لی ہے، تاہم آزربائیجان بھی کاراباخ کو مکمل طور پر آزاد کروانے میں ناکام رہا ہے اور روس کی مصالحت کے تحت امن معاہدے پر دونوں فریقین نے دستخط کر دیے ہیں۔ تاہم اس سب میں اہم چیز آرمینیائی قیادت کا شکست کو یوں تسلیم کرنا ہے کہ خطے میں اس کے دیرپااثرات دیکھنے کو ملیں گے۔

جنگ میں شکست کو تسلیم کرتے ہوئے آرمینیائی قیادت کا کہنا ہے کہ انکی فوج تھک چکی ہے، اور اسے بُری طرح سے کچلے جانے سے بچانے کے لیے آزربائیجان سے وقت مانگا گیا ہے اور روسی مصالحت میں معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

معاہدہ سوموار کی شام ہوا، جس کے تحت آرمینیا آزربائیجان کے علاقے کاراباخ سے وقفے وقفے سے نکل جائے گا۔ کاراباخ کے آرمینی نمائندے آرایک ہارُت یونیان نے آج بروز منگل قومی ٹی وی سے خطاب میں نہ صرف امن معاہدے کا اعلان کیا بلکہ عسکری شکست کا اعتراف بھی کیا۔

تاہم آرمینی قیادت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آزربائیجان کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور امن معاہدے سے کاراباخ کے مکمل نقصان کو بچا لیا گیا ہے، ہارُت یونیان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہتی تو چند ہی روز میں کاراباخ کو مکمل طور پر کھو دیتے، اور بہت زیادہ جانی نقصان بھی ہوتا۔

ہارُت یونیان کا مزید کہنا ہے کہ افواج کووڈ19 کے باعث بُری طرح پریشان تھیں، اور 40 روز سے جاری جنگ کے باعث بھی فوجی تھک چکے تھے۔ اس کے علاوہ آزربائیجان کو مہیا کردہ ترک ڈرون طیارے اور شامی گوریلا جہادی جنگ کا پاسہ بدلنے کا سبب بنے۔

آرمینیائی نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ شوشا کا اہم تذویراتی شہر کھو جانے کے بعد کیا گیا، اور دراصل ہفتے سے وہاں آزربائیجان کا قبضہ ہے، اس کے بعد علاقائی دارالحکومت کی طرف ہوتی پیش رفت پریشان کن تھی، اگر اسے نہ روکا جاتا تو صورتحال مکمل طور پر ہاتھ سے نکل سکتی تھی۔

روس کی مصالحت سے ہوئے معاہدے کے تحت کاراباخ کا کچھ علاقہ اور اسے آرمینیا سے جوڑنے والا رستہ آرمینیا کے ہاتھوں میں ہی رہیں گے، اور وہاں روسی اور ترک امن افواج دونوں فریقین کے مابین حائل رہیں گی۔

آرمینیا میں عوامی سطح پر حکومتی فیصلے کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے، اور عوام ہتھیار ڈالنے کی سختی سے مخالفت کر رہی ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق شہریوں نے پارلیمنٹ اور وزیراعظم کی رہائش پر پتھراؤ کیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us