اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

ایتھوپیا عسکری کارروائی جاری: ردعمل میں علیحدگی پسندوں کے اہم ہوائی اڈوں پر راکٹ حملے، جنگ سے بچنے کے لیے ہزاروں افراد کی سوڈان کی طرف ہجرت

ایتھوپیا کے شہر باہردار اور گوندر میں دو راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔ حملے شمال میں جاری علیحدگی پسندوں نے کیے ہیں، جن کے خلاف حکومت نے فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

حکام کے مطابق حملے راکٹ بم سے کیے گئے، جس میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع کے مطابق گوندار کے ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں کافی نقصان ہوا ہے۔ مقامی نشریاتی ادراوں کے مطابق باہردار میں ہوا حملہ بھی ہوائی اڈے کے انتہائی قریب تھا، جس سے لگتا ہے کہ نشانہ تو ہوائی اڈہ ہی تھا تاہم نشانہ چوک گیا۔

ملک کے شمالی علاقے ٹگرے میں علیحدگی کی تحریک کے ذمہ داروں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکا نشانہ وہ ہوائی اڈے تھے جہاں سے وفاقی حکومت ان پر فضائی حملے کر رہی تھی۔ ہم پر حملہ کرنے والے ہر فرد اور سہولت کو نشانہ بنائیں گے، نہ کہ عوام یا شہروں کو۔

یاد رہے کہ ایتھوپیا کی وفاقی حکومت نے تگڑے میں علیحدگی کی تحریک کو دبانے کے لیے چند روز قبل ہی فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ امن کے نوبل انعام یافتہ، ملک کے صدر آبے نے فوجی کارروائی شروع کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے محدود پیمانے پر کارروائی کی جائے گی، لیکن اب تک سینکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پرعلاقے کی عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 14000 سے زائد افراد جنگ سے بچنے کے لیے ہمسایہ ملک سوڈان میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ مزید ہزاروں تیاری کر رہے ہیں، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ادارے کے پاس موجود وسائل ضرورت سے کئی گناء کم ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us