اتوار, نومبر 29 Live
Shadow

ڈاکٹر شیریں مزاری غلط خبر پر فرانسیسی صدر پر برس پڑیں، فرانسیسی سفارت خانے کے سخت جواب پر بیان واپس لینا پڑ گیا

پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے سماجی میڈیا کھاتے پر خصوصی پیغام میں فرانسیسی صدرایمینیوئل میخرون پر ملک کی مسلم آبادی سے ناروا سلوک پر احتجاج کیا ہے۔ شیریں مزاری کہنا تھا کہ میخرون فرانس میں مسلمانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر رہا ہے جیسا جرمنی میں نازی پارٹی نے یہودیوں کے ساتھ کیا۔ فرانس میں مسلمان بچوں کو خصوصی شناختی کارڈ دیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جیسے جرمنی میں یہودیوں کو خصوصی پیلا ستارہ پہننے کا حکم تھا، تاکہ انکی پہچان ہو سکے۔

https://twitter.com/ShireenMazari1/status/1330116822079856640

شیریں مزاری کی ٹویٹ کے ردعمل میں فرانسیسی سفارت خانے نے یورپی یونین کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا ایک اشتعال انگیز جواب شائع کیا ہے۔ جواب میں عہدے دار نے پاکستانی وزیر کا نام لیے بغیر لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر نے فرانس اور اسکے صدر کی توہین کی ہے، وزیر کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ نفرت اور تشدد کے نظریے سے بھرا ہوا ہے۔ اعلیٰ عہدے پر ہونے والے کو ایسا بیان شوبہ نہیں دیتا، ہم اسکی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی دفتر خارجہ نے پیرس میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے اورانہیں فرانس کے صدر کی توہین پر اپنے ردعمل سے آگاہ کرتے ہوئے بیان کو فوری واپس لینے کا کہا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس کے نئے قانون کے تحت فرانس میں زیر تعلیم تمام بچوں کو ایک خصوصی شناختی نمبر دیا جائے گا، اور ان کی اسکول میں حاضری اور دیگر معاملات کی خصوصی نگرانی کی جائے گی، قانون کے تحت ایسے والدین جو بچوں کو اسکول نہ بھیجیں گے اور بچوں کو گھروں میں پڑھانے کی کوشش کریں گے انہیں جرمانہ اور سزا دی جا سکے گی۔

دوسری طرف فرانسیسی صدر نے فرانسیسی کونسل برائے مسلم کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 15 روز میں وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر شدت پسندی کے خلاف حکمت عملی بنائے، کونسل نے وزات کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ کونسل نے تجویز دی ہے کہ وہ ایک تنظیم بنائیں گے جو آئمہ کو خطبے کا خصوصی اجازت نامہ جاری کریں گی، اجازت نامے کے بغیر کوئی شخص عوامی اجتماعات سے خطاب نہیں کر سکے گا، کونسل صرف انہیں سرٹیفکیٹ دے گی جنہیں فرانسیسی اقدار کے مطابق ماڈریٹ سمجھا جائے گا۔

اسکے علاوہ فرانس ملک میں سکیورٹی کو لے کر متعدد نئے قوانین بھی متعارف کروا رہا ہے، جس پر مقامی شہری اور مختلف شعبہ جات کے افراد بھی سراپا احتجاج ہیں۔

فرانسیسی صدر کے اقدامات کی برطانوی، امریکی اور دیگر مغربی ممالک کے مسلمان سیاستدانوں کی جانب سے بھی مذمت کی جا رہی ہے، اور وہ بھی انہیں متعصب اور جبر پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔

پیش رفت

پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق نے فرانسیسی سفارت خانے کے رابطے اور خبر کی درستگی پر اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں