پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

لیٹویا کے صدر نے دس سالوں میں ملک میں واحد زبان اور تہذیب کے لیے پالیسی لانے کا اعلان کر دیا: کثیر السان ملک میں متعصب پالیسی کا بڑا شکار 71٪ آبادی کی روسی زبان ہو گی

یورپی ملک لیٹویا کے صدر ایجل لیوائٹس نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دس سالوں میں لیٹویا لسانی طور پر خالص لیٹویائی ریاست بن جائے گا اور ملک میں کسی دوسرے لسانی گروہ کو جگہ نہیں دی جائے گی۔ لیٹویا کے صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ملک میں لیٹویائی زبان اور تہذیب کے لیے مہم شروع کی جائے گی اور ساری آبادی کو یکسوئی کی طرف لایا جائے گا۔

واضح رہے کہ لیٹویا کی کل 20 لاکھ کی آبادی میں سب سے زیادہ روسی آباد ہیں، جو ملک کا 12 فیصد بنتے ہیں۔

صدر لیوائٹس نے اس لسانی تعصب پر مبنی رائے کا اظہار پارلیمنٹ میں کیا۔ خطاب میں صدر نے زور دیا کہ 2030 تک لیٹویا کو دنیا کی جدید ترین ریاست بنانے کے لیے بڑے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت کو مستقبل میں تیز ترقی کے لیے اہم فیصلے کرنے ہوں گے، ایسے فیصلے جن کا نمایاں اثر آئندہ چند سالوں میں نظر آئے۔

صدر لیوائٹس کا مزید کہنا تھا کہ لیٹویا صرف لیٹویا تہذیب کے لیے ہو گا، اور ملک دنیا میں اپنی الگ پہچان کے ساتھ ابھرے گا۔ یاد رہے کہ لیٹویا ایک کثیرالسانی ملک ہے، جس کی آبادی کا بڑا حصہ 71٪ روسی زبان بولتا ہے، اور دارلحکومت ریگا میں نصف آبادی روسی النسل ہے۔ جبکہ لیٹویا زبان ملک کی صرف 1 اعشاریہ 7 فیصد آبادی بولتی ہے۔ اس کے برعکس روسی زبان 11 ممالک میں تقریباً 26 کروڑ لوگ بولتے ہیں۔

واضح رہے کہ لیٹویا نے 2012 میں لیٹویائی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا، جبکہ روسی زبان کو سرکاری حیثیت دینے کے لیے ریفرنڈم کی کوشش کو بھی دبا دیا گیا تھا۔ اس وقت لیٹویائی صدر کا کہنا تھا کہ جسے اپنی زبان بولنا ہے وہ گھروں میں بول سکتا ہے، پر ملک میں سرکاری زبان صرف لیٹویائی ہی ہو گی۔ لسانی تعصب کے باعث لیٹویا 2012 سے سماجی کشیدگی کا شکار ہے، اور تعلیمی ادارے بھی سخت پالیسیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہنگامی طور پر قانون سازی اور عملدرداری کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ دیگر لسانی گروہوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us