پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

جرمنی: علاقائی انتخابات میں حکمران جماعت کو بُری شکست، انجیلا میرکل کا 16 سالہ طویل دور ختم ہونے کو

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کو ملک میں جاری صوبائی انتخابات میں بری طرح شکست کا سامنا ہے، دو صوبوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کے مطابق عوام نے حکمران جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔

جرمنی کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق شکست کی بظاہر وجہ جماعت کے اہم رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات اور عوام کا جماعت پر کھوتا اعتماد ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت نے آئندہ عام انتخابات سے قبل لمبے گزشتہ 16 سال سے ملک کی چانسلر رہنے والی انجیلا میرکل سمیت جماعت کی مرکزی قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

بروز اتوار بیدن ووایرتمبرگ اور رائنلیند پالاتینیت میں انتخابات ہوئے ہیں، جس کے نتائج آئے تو ان میں اینجیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کو بری طرح شکست کا سامنا رہا۔ واضح رہے کہ بیدن ووایرتمبرگ سی ڈی یو کا مظبوط مرکز مانا جانے والا صوبہ ہے، جہاں مرسڈیز، پورش اور دائملیر کی فیکٹریاں معروف ہیں۔

تازہ انتخابی نتائج کے مطابق اب گرین پارٹی کو 31 اعشاریہ 5 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ سی ڈی یو 23٪ ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اس کے علاوہ رائنلینڈپالاتینیت بھی حکمران جماعت کا پسندیدہ حلقہ رہا ہے تاہم گزشتہ حکومت میں وہاں وسطی بائیں بازو کی جماعت کے ساتھ اتحادی حکومت بنانا پڑی تھی۔ رواں انتخابات میں عوام نے وسطی بائیں بازو کی جماعت ایس ڈی پی کو 33 اعشاریہ 5 فیصد ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے، اور سی ڈی یو 25 اعشاریہ 5 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

دوسری طرف حیران کن طور پر قوم پرست نظریے کی مالک جماعت ای ایف ڈی کو تمام تر مفروضوں کے برعکس 2019 کی نسبت کم ووٹ ملے ہیں اور جماعت دونوں صوبوں سے بالترتیب صرف 12 اعشاریہ 5 اور 10 اعشاریہ 5٪ ووٹ حاصل کر سکی۔

جرمنی کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ڈی یو شکست بالکل حیران کن نہیں ہے، انتخابات سے قبل ہونے والے سروے میں بھی ایسے ہی نتائج کی پیشنگوئی کی گئی تھی۔ تاہم مسلسل 5 بار ملک کی چانسلر رہ کر انجیلا میرکل نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ انکے دور کا اختتام جماعت اور ملک کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us