ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

جرمنی: علاقائی انتخابات میں حکمران جماعت کو بُری شکست، انجیلا میرکل کا 16 سالہ طویل دور ختم ہونے کو

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کو ملک میں جاری صوبائی انتخابات میں بری طرح شکست کا سامنا ہے، دو صوبوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کے مطابق عوام نے حکمران جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔

جرمنی کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق شکست کی بظاہر وجہ جماعت کے اہم رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات اور عوام کا جماعت پر کھوتا اعتماد ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت نے آئندہ عام انتخابات سے قبل لمبے گزشتہ 16 سال سے ملک کی چانسلر رہنے والی انجیلا میرکل سمیت جماعت کی مرکزی قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

بروز اتوار بیدن ووایرتمبرگ اور رائنلیند پالاتینیت میں انتخابات ہوئے ہیں، جس کے نتائج آئے تو ان میں اینجیلا میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کو بری طرح شکست کا سامنا رہا۔ واضح رہے کہ بیدن ووایرتمبرگ سی ڈی یو کا مظبوط مرکز مانا جانے والا صوبہ ہے، جہاں مرسڈیز، پورش اور دائملیر کی فیکٹریاں معروف ہیں۔

تازہ انتخابی نتائج کے مطابق اب گرین پارٹی کو 31 اعشاریہ 5 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ سی ڈی یو 23٪ ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اس کے علاوہ رائنلینڈپالاتینیت بھی حکمران جماعت کا پسندیدہ حلقہ رہا ہے تاہم گزشتہ حکومت میں وہاں وسطی بائیں بازو کی جماعت کے ساتھ اتحادی حکومت بنانا پڑی تھی۔ رواں انتخابات میں عوام نے وسطی بائیں بازو کی جماعت ایس ڈی پی کو 33 اعشاریہ 5 فیصد ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے، اور سی ڈی یو 25 اعشاریہ 5 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

دوسری طرف حیران کن طور پر قوم پرست نظریے کی مالک جماعت ای ایف ڈی کو تمام تر مفروضوں کے برعکس 2019 کی نسبت کم ووٹ ملے ہیں اور جماعت دونوں صوبوں سے بالترتیب صرف 12 اعشاریہ 5 اور 10 اعشاریہ 5٪ ووٹ حاصل کر سکی۔

جرمنی کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ڈی یو شکست بالکل حیران کن نہیں ہے، انتخابات سے قبل ہونے والے سروے میں بھی ایسے ہی نتائج کی پیشنگوئی کی گئی تھی۔ تاہم مسلسل 5 بار ملک کی چانسلر رہ کر انجیلا میرکل نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ انکے دور کا اختتام جماعت اور ملک کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us