ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امریکہ: 25٪ شہری، 40٪ میرین اور 33٪ فوجی اہلکاروں کا کورونا ویکسین لگوانے سے انکار، حکمران جماعت نے رحجان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا، قانون سازی پر غور

امریکی بحری فوج کی بڑی تعداد نے کورونا ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا ہے، امریکی میڈیا کو ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق 40٪ بحری فوجیوں نے کورونا ویکسین لگوانے سے انکار کردیا ہے جس پر حکمران جماعت نے فوجی اہلکاروں کے لیے ویکسین لازم ہونے کی قانون سازی کا اعلان کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بحریہ کے 75500 اہلکاروں نے ویکسین لگوانے کے لیے حامی بھری ہےجبکہ 48000 نے اس سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی میرین فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ پیشہ ور فوج مانا جاتا ہے، جو امریکی مفادات کے دفاع کے لیے دنیا بھر میں لڑتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر امریکی افواج میں 33٪ اہلکاروں نے ویکسین لگوانے سے انکار کا اظہار کیا ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان کیلی فروشور نے افواج کی جانب سے منفی ردعمل کی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہلکاروں کی نفی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، بہت سے چاہتے ہوں گے کہ پہلے عام شہریوں اور شدید خطرناک صورتھال سے درپیش افراد کو ویکسین لگا لی جائے، کچھ کو اس سے الرجی ہو سکتی ہے اور کچھ اسے غیر سرکاری ذرائع سے لینے کو ترجیح دینے والے ہو سکتے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو افواج کی آگاہی کے لیے مہم چلانے کی ضرورت ہے، تاکہ اہلکاروں کا اعتماد بڑھ سکے۔

واضح رہے کہ ابھی میرین کی بڑی تعداد تقریباً 1 الکھ 2 ہزار اہلکار دنیا بھر میں تعینات ہیں اور ان سے ویکسین کے حوالے سے کوئی رائے نہیں لی جا سکی۔

فوج میں ویکسین کے خلاف شدید مزاحمت ابھرنے اور عوام کے اس سے متاثر ہونے کے خوف نے حکمران جماعت کے لیے نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے، سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج ایک بری مثال قائم کر رہی ہے، انہیں پابند کیا جائے کہ ویکسین لگوانا لازم ہے۔ ایوان بالا کے متعدد ارکان نے صدر کو اس حوالے سے باقائدہ قانون سازی کا مشورہ دیا ہے۔

ارکان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی اجازت قومی سلامتی کو خطرے کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے، اس پر فوری حکمت عملی وضع کیا جائے۔ فوجی اہلکار اس مسئلے پر مزاحمت نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ ایک سروے کے مطابق امریکی شہریوں میں سے بھی ایک چوتھائی افراد ویکسین لگوانے سے انکاری ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us