ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

چین نے 18 ماہ کی ریکارڈ مدت میں اپنا الگ خلائی اسٹیشن تیانہی خلاء میں بھیج دیا

چین نے صرف 18 ماہ میں اپنا خود کا خلائی اسٹیشن بنا کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، نئے خلائی مرکز کو بروز منگل خلاء میں بھیج دیا گیا جو زمین کے نچلے مدار میں چینی خلائی جہازوں کے لیے اسٹیشن کا کام کرے گا۔ چینی خلائی ادارے کے مطابق چین آئندہ چند ماہ میں مزید 10 خلائی منصوبے متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خلائی اسٹیشن کو تیانہی کا نام دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے جنتوں کی ہم آہنگی۔ تیانہی چینی خلائی اسٹیشن کے کنٹرول مرکز کا کام کرے گا، جہاں ایک وقت میں 6 ماہ کے لیے 3 خلاء باز قیام کر سکیں گے۔ اسٹیشن کے مزید دو حصے آئندہ کچھ ہفتوں میں مرکز سے جڑ جائیں گے۔ تیانہی 18 میٹر لمبا ہے جبکہ بعد میں منسلک ہونے والے حصے 14 سے 15 میٹر لمبے ہوں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مقابلے میں صرف چین اپنا خود کا اسٹیشن متعارف کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔ چینی خلائی اسٹیشن کا وزن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی نسبت 1/4 ہے۔ چینی خلائی مرکز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ترین خلائی مرکز چینی تحقیق کا شاہکار ہے۔

یاد رہے کہ خلاء میں پہلا اسٹیشن سالیوت سوویت یونین نے 1971 میں بھیجا تھا، تب سے اب تک خلاء باز 11 مختلف مشترکہ خلائی مراکز میں جزوی یا مستقل قیام کر رہے ہیں، چین کا متعارف کردہ حالیہ خلائی اسٹیشن تیسرا مستقل خلائی اسٹیشن ہو گا، جہاں مستقل طور پر خلاء باز رہ سکیں گے۔ روسی خلائی اسٹیشن میر کی طرح چینی تیانہی بھی مکمل طور پر چین میں تیار کردہ چینی ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us