ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

چین نے 18 ماہ کی ریکارڈ مدت میں اپنا الگ خلائی اسٹیشن تیانہی خلاء میں بھیج دیا

چین نے صرف 18 ماہ میں اپنا خود کا خلائی اسٹیشن بنا کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، نئے خلائی مرکز کو بروز منگل خلاء میں بھیج دیا گیا جو زمین کے نچلے مدار میں چینی خلائی جہازوں کے لیے اسٹیشن کا کام کرے گا۔ چینی خلائی ادارے کے مطابق چین آئندہ چند ماہ میں مزید 10 خلائی منصوبے متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خلائی اسٹیشن کو تیانہی کا نام دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے جنتوں کی ہم آہنگی۔ تیانہی چینی خلائی اسٹیشن کے کنٹرول مرکز کا کام کرے گا، جہاں ایک وقت میں 6 ماہ کے لیے 3 خلاء باز قیام کر سکیں گے۔ اسٹیشن کے مزید دو حصے آئندہ کچھ ہفتوں میں مرکز سے جڑ جائیں گے۔ تیانہی 18 میٹر لمبا ہے جبکہ بعد میں منسلک ہونے والے حصے 14 سے 15 میٹر لمبے ہوں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مقابلے میں صرف چین اپنا خود کا اسٹیشن متعارف کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔ چینی خلائی اسٹیشن کا وزن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی نسبت 1/4 ہے۔ چینی خلائی مرکز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ترین خلائی مرکز چینی تحقیق کا شاہکار ہے۔

یاد رہے کہ خلاء میں پہلا اسٹیشن سالیوت سوویت یونین نے 1971 میں بھیجا تھا، تب سے اب تک خلاء باز 11 مختلف مشترکہ خلائی مراکز میں جزوی یا مستقل قیام کر رہے ہیں، چین کا متعارف کردہ حالیہ خلائی اسٹیشن تیسرا مستقل خلائی اسٹیشن ہو گا، جہاں مستقل طور پر خلاء باز رہ سکیں گے۔ روسی خلائی اسٹیشن میر کی طرح چینی تیانہی بھی مکمل طور پر چین میں تیار کردہ چینی ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us