پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی پر آسٹریلیا میں سخت ترین قانون سازی: ہندوستان جیسے شدید متاثرہ ممالک سے لوٹنے پر فوجداری مقدمے کے تحت 5 سال جیل یاترا کرنا ہو گی

 آسٹریلوی حکومت نے اپنے شہریوں پر حیاتیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت کووڈ-19 سے شدید متاثر ممالک سے واپس لوٹنے پر بھاری جرمانے اور جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعہ کے روز حکومت نے ہندوستان سے واپس لوٹنے والے شہریوں پر عارضی پابندی لگائی ہے، اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر 5 سال جیل اور جرمانہ ادا کرنے کا قانون متعارف کروایا گیا ہے، اس کے علاوہ یہ ساری کارروائی فوجداری مقدمے کے تحت ہو گی، یعنی کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا آسٹریلوی پولیس کے ریکارڈ میں مجرم قرار پائے گا۔

اب تک دنیا میں کورونا کی پابندیوں کی خلاف ورزی پر متعارف کروائے گئے سخت ترین قانون کا اطلاق 3 مئی سے شروع ہو گا۔ آسٹریلوی حکومت نے قانون گزشتہ ماہ کے آخر میں دو آسٹریلوی کرکٹروں کے ہندوستان میں کمرشل میچ کھیل کر براستہ دوحہ ملک واپس پہنچنے پر متعارف کروایا ہے۔ 3 مئی سے شروع ہونے والے اس فیصلے کے تحت، کسی کو بھی ہندوستان سے آسٹریلیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، بصورت دیگر اسے جرمانے، قید یا دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلیا میں انسانی حقوق کے معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے کے سربراہ نے قانون پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ “یہ ایک اشتعال انگیز ردعمل ہے، آسٹریلوی شہریوں کو اپنے ملک واپس لوٹنے کا پورا حق ہے، حکومت کی طرف سے بہتر حفاظتی اقدامات متعارف کروانے کی ضرورت تھی نہ کہ جرمانے اور جیل جیسی سخت سزا کے اعلان کی”۔

یاد رہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ حیاتیاتی تحفظ ایکٹ (2015)  کے تحت کیا ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت کو کسی بھی ہنگامی ضرورت کا تعین کرنے کی اجازت ہے جوملک میں بیماری داخل ہونے یا پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ضروری سمجھی جائے۔ جمعہ کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد ہندوستان کو اس زمرے میں شامل کیا گیا جہاں سے شہریوں کی وطن واپسی پر پابندی لگائی گئی ہے۔

محکمہ امور خارجہ کی گنتی کے مطابق، 36000 آسٹریلوی شہری بیرونی ممالک میں پھنسے ہیں۔ جن میں سے کم از کم 9 ہزار صرف ہندوستان میں ہیں، جبکہ 600 سے زائد کو حد درجہ غیر محفوظ شمار کیا گیا ہے۔ ملک میں داخل ہونے والے افراد پر سخت تعزیرات کی حدود کی وجہ سے وہ اب اپنے گھر نہیں لوٹ سکیں گے۔

حزب اختلاف کے داخلی امور کے ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں پھنسے 9 ہزار آسٹریلوی شہریوں کے حوالے سے وضاحت دے، رکن پارلیمان نے کرسمس تک ان تمام شہریوں کے وطن واپسی کے حکومتی وعدے پر عمل کی توقع ظاہر کی ہے۔

آسٹریلوی حکومت کے اس سخت ترین فیصلے کے خلاف شہریوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، شہریوں نے قانون کو متعصب اور نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی مشیر میری لوئیس نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ قانون یقینی طور پر نسل پرستانہ ہے، حکومت کو ہندوستان سے اپنے شہریوں کے انخلاء سے متعلق اقدامات کرنے چاہیے تھے، نہ کہ انہیں بے یارومددگار چھوڑنا چاہیے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us