ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

برازیل میں پولیس کے منشیات فروشوں کے خلاف چھاپے جاری: 3 روز میں 1 پولیس افسر سمیت 28 ہلاک

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں کچی آبادیوں میں منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کارروائی کے دوران مارے جانے والوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔ کاروائی کے خلاف کچی آبادیوں کے رہائشی احتجاج کر رہے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ پولیس نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جبکہ پولیس نے الزام مسترد کرتے ہوئے مرنے والے افراد کو منشیات فروش قرار دیا ہے، انکا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں نے چھاپے کے دوران پولیس اہلکاروںں پر حملہ کیا، جس کے جواب میں پولیس کو بھی اسلحے کا استعمال کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز شروع ہونے والی کارروائی میں پہلے دن ایک پولیس افسر سمیت 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کاروائی کے خلاف مقامی سماجی ذرائع ابلاغ پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس میں حزب اختلاف، معروف شخصیات اور مقامی سماجی کارکنان کی جانب سے کارروائی کو قتل عام قرار دیا جا رہا ہے۔ برازیل کے مشہور گلوکار انیٹا نے ٹویٹ کیا کہ پولیس نے “ریو کے سب سے بڑے فیویل میں دہشت گردی پھیلاتے ہوئے گھروں پر حملہ کیا”۔

مقامی لوگوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نہتے لوگوں پر گولیاں چلا رہی ہے، اور شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہری خون آلود گھروں اور سڑکوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کر رہے ہیں۔

شہری اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ماورائے عدالت قتل وغارت کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک مقامی ہسپانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے جانے والے افراد میں سے کم سے کم 13 پولیس کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل نہیں تھے، اور وہ بے گناہ مارے گئے۔

دوسری طرف پولیس نے کارروائی میں کسی قسم کی بدانتظامی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے، حکومتی جماعت کے سیاستدانوں کی جانب سے پولیس کی پوری حمایت کا اعلان کیا جا رہا ہے، انکا کہنا ہے کہ شہر کو منشیات سے پاک کرنا ناگزیر ہو گیا تھا، پولیس کی کارروائی قانونی تھی، حکومتی ارکان کی جانب سے سخت بیانات کے بعد شہر میں حالات مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us