Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

مسجد اقصیٰ پہ صیہونی مسلح جتھوں کا حملہ: دفاع میں بچوں سمیت 350 سے زائد فلسطینی زخمی، کورونا وباء کے دوران حساس سیاسی مسئلہ ابھرنے پر دنیا بھر سے تشویش کا اظہار

مقبوضہ فلسطین میں صیہونی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، رمضان کی باسعادت گھڑیوں میں ایک بار پھر صیہونی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس میں اب تک 14 بچوں اور نوعمر سمیت 350 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمی افراد میں سے 16 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جھڑپوں میں دو درجن صیہونی مسلح جتھوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ جھڑپیں قابض صیہونی انتظامیہ کی جانب سے مشرقی بیت المقدس میں عرب مسلمانوں سے گھر خالی کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش میں شروع ہوئی ہیں۔ مسجد اقصیٰ اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں گزشتہ جمعہ سے صیہونی مسلح جتھے، شدت پسند صیہونی تنظیموں کے ارکان کے ساتھ مل کر نہتے فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں علاقہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

قابض انتظامیہ اپنی خود ساختہ عدالت سے فیصلہ لے کر مشرقی بیت المقدس میں مقیم 60 سے زائد مقامی عرب مسلمانوں کے گھر خالی کروا کر وہاں صیہونی شہریوں کو بسانا چاہتی ہے۔ جس کے لیے مقامی عدالت سے پہلے ہی فیصلہ لیا جا چکا ہے لیکن اسکی توثیق کے لیے اعلیٰ عدالت سے بھی فیصلہ لیا جا رہا ہے، جو شدید مزاحمت اور بدامنی کے باعث مسلسل اپنا فیصلہ مؤخر کر رہی ہے۔ 10 مئی کو متوقع آخری تاریخ کو اب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا گیا ہے تاہم قابض صیہونی عدالت نے ایک ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔

تشدد کو اور ہوا دینے کے لیے قابض انتظامیہ کے سربراہ نیتن یاہو نے بیان دیا ہے کہ وہ بیت المقدس کو صیہونی شہر بنا کر ہی رہیں گے، اور اس حوالے سے کسی قسم کا عالمی دباؤ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

قابض صیہونی انتظامیہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مسجد اقصیٰ میں امن کو بحال کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس سماجی میڈیا پر مقامی عرب مسلمان تشدد کی ہر لمحے تازہ ویڈیو شائع کر رہے ہیں جنہیں دیکھ کر دنیا بھر سے مسلمان اور انسانیت کا درد رکھنے والے افراد کی جانب سے صیہونی مظالم کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے، مقامی میڈیا کے مطابق عربوں نے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے اب مسجد میں ہی قیام شروع کر دیا ہے۔

مسجد کی صفائی کے دوران کچڑے میں آنسو و دیگر زہریلی گیسوں کے ڈبے، گولیوں کے خول، اور نوکیلے پتھر بھی جمع ہوئے ہیں، جن سے صیہونی انتظامیہ کے مقاصد کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے ترجمان کی جانب سے صیہونی مظالم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، انکا کہنا ہے کہ صیہونی عالمی وباء کے دوران دنیا کو ایک اور بڑے مسئلے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، ان حرکات سے امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

یورپی اتحاد کے نمائندہ برائے فلسطین نے بھی مسجد اقصیٰ اور اس کے علاقے میں ہنگاموں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین سے تشدد سے باز رہنے کی تلقین کی ہے، جبکہ زخمیوں کو مناسب اور برابر طبی امداد مہیا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس شدید کشیدہ صورتحال کے باعث قابض صیہونی انتظامیہ نے شدت پسند تنظیموں اور صیہونی شہریوں کو بھی 1967 کی جنگ میں بیت المقدس کے قبضے کی یاد میں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی، تاہم عرب مسلمانوں نے رمضان کے دوران کسی قسم کی پابندی کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے مسجد میں عبادت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اور اس دوران ہونے والے حملوں کو بھی دستیاب قوت بازو سے روکا جا رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

sixteen − 2 =

Contact Us