جمعرات, اکتوبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
جمناسٹک عالمی چیمپین مقابلے میں روسی کھلاڑی دینا آویرینا نے 15ویں بار سونے کا تمغہ جیت کر نیا عالمی ریکارڈ بنا دیا، بہن ارینا دوسرے نمبر پر – ویڈیویورپی یونین ہمارے سر پر بندوق نہ تانے، رویہ نہ بدلا تو بریگزٹ کی طرز پر پولیگزٹ ہو گا: پولینڈ وزیراعظمسابق سعودی جاسوس اہلکار سعد الجبری کا تہلکہ خیز انٹرویو: سعودی شہزادے محمد بن سلمان پر قتل کے منصوبے کا الزام، شہزادے کو بے رحم نفسیاتی مریض قرار دے دیاملکی سیاست میں مداخلت پر ترکی کا سخت ردعمل: 10 مغربی ممالک نے مداخلت سے اجتناب کا وضاحتی بیان جاری کر دیا، ترک صدر نے سفراء کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیاترکی کو ایف-35 منصوبے سے نکالنے اور رقم کی تلافی کے لیے نیٹو کی جانب سے ایف-16 طیاروں کو جدید بنانے کی پیشکش: وزیر دفاع کا تکنیکی کام شروع ہونے کا دعویٰ، امریکہ کا تبصرے سے انکارترک صدر ایردوعان کا اندرونی سیاست میں مداخلت پر 10 مغربی ممالک کے سفراء کو ناپسندیدہ قرار دینے کا فیصلہبحرالکاہل میں چینی و روسی جنگی بحری مشقیں مکمل – ویڈیونائجیریا: جیل حملے میں 800 قیدی فرار، 262 واپس گرفتار، 575 تاحال مفرورترکی: فسلطینی طلباء کی جاسوسی کرنے والا 15 رکنی صیہونی جاسوس گروہ گرفتار، تحقیقات جاریامریکی انتخابات میں غیر سرکاری تنظیموں کے اثرانداز ہونے کا انکشاف: فیس بک کے مالک اور دیگر ہم فکر افراد نے صرف 2 تنظیموں کو 42 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم چندے میں دی، جس سے انتخابی عمل متاثر ہوا، تجزیاتی رپورٹ

مہاجرین کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر یورپی اتحاد کو ہجرت کے نئے قوانین لانے تک سرحدیں بند کر دینی چاہیے: ممکنہ صدارتی امیدوار فرانس

یورپی یونین کے اعلیٰ بریگزٹ مذاکرات کار اور ممکنہ فرانسیسی صدارتی امیدوار مشیل بارنیئر نے اتحادی ممالک پر شینگن معاہدے کے ازسرنو جائزے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے سرحدوں کو مستحکم کرنے اور معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے خطے میں پانچ سال تک ہجرت پر روک لگانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ ہجرت کو معطل کرنے کے لیے ہمیں تین یا پانچ سال کا وقت درکار ہو گا” انہوں نے اتحاد پر زور دیا کہ وہ اپنی بیرونی سرحدوں کو مضبوط بنائیں اور ہجرت سے متعلق قوانین پر نظرثانی کرے۔

بارنیئر نے استدلال کیا ہے کہ موجودہ حالات میں، مغربی نظام ہجرت مؤثرانداز میں کام نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور ہجرت کے بہاؤ میں گھس آنے والوں اور دہشت گرد نیٹ ورکوں کے مابین روابط موجود ہیں۔

یورپی یونین نے حالیہ برسوں میں افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے جنگ سے بچ کر کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم عبور کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے مسلسل بہاؤ سے نمٹنے کے لیے کافی جدوجہد کی ہے۔ یہ غیر دستاویزی ہجرت 2015 میں شروع ہوئی اور 2019 کے اوائل میں یورپی کمیشن نے دعویٰ کیا کہ تارکین وطن کا بحران ختم ہوگیا ہے۔

 غیر قانونی تارکین وطن یورپی یونین میں داخل ہونے کے خواہاں ہیں۔ یورپی کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال جنوری اور نومبر کے درمیان، تقریباً 114000 افراد غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ تعداد 2019 میں اسی عرصے کے مقابلے میں صرف 10 فیصد کم ہے حالانکہ عالمی سطح پر کورونا وائرس وبائی امراض نے عام بین الاقوامی سفر کو بھی انتہائی متاثر کیا ہے۔

 حالیہ ہفتوں میں بھی مہاجرین کے بہاؤ میں تیزی آئی ہے۔ صرف گذشتہ ہفتے کے آخر میں تقریباً 2100 افراد اطالوی جزیرے لمپیڈوسا پر لنگرانداز ہوئے ہیں، جو ایک طویل عرصے سے غیر قانونی نقل مکانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us