ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

مہاجرین کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر یورپی اتحاد کو ہجرت کے نئے قوانین لانے تک سرحدیں بند کر دینی چاہیے: ممکنہ صدارتی امیدوار فرانس

یورپی یونین کے اعلیٰ بریگزٹ مذاکرات کار اور ممکنہ فرانسیسی صدارتی امیدوار مشیل بارنیئر نے اتحادی ممالک پر شینگن معاہدے کے ازسرنو جائزے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے سرحدوں کو مستحکم کرنے اور معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے خطے میں پانچ سال تک ہجرت پر روک لگانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ ہجرت کو معطل کرنے کے لیے ہمیں تین یا پانچ سال کا وقت درکار ہو گا” انہوں نے اتحاد پر زور دیا کہ وہ اپنی بیرونی سرحدوں کو مضبوط بنائیں اور ہجرت سے متعلق قوانین پر نظرثانی کرے۔

بارنیئر نے استدلال کیا ہے کہ موجودہ حالات میں، مغربی نظام ہجرت مؤثرانداز میں کام نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور ہجرت کے بہاؤ میں گھس آنے والوں اور دہشت گرد نیٹ ورکوں کے مابین روابط موجود ہیں۔

یورپی یونین نے حالیہ برسوں میں افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے جنگ سے بچ کر کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم عبور کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے مسلسل بہاؤ سے نمٹنے کے لیے کافی جدوجہد کی ہے۔ یہ غیر دستاویزی ہجرت 2015 میں شروع ہوئی اور 2019 کے اوائل میں یورپی کمیشن نے دعویٰ کیا کہ تارکین وطن کا بحران ختم ہوگیا ہے۔

 غیر قانونی تارکین وطن یورپی یونین میں داخل ہونے کے خواہاں ہیں۔ یورپی کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال جنوری اور نومبر کے درمیان، تقریباً 114000 افراد غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ تعداد 2019 میں اسی عرصے کے مقابلے میں صرف 10 فیصد کم ہے حالانکہ عالمی سطح پر کورونا وائرس وبائی امراض نے عام بین الاقوامی سفر کو بھی انتہائی متاثر کیا ہے۔

 حالیہ ہفتوں میں بھی مہاجرین کے بہاؤ میں تیزی آئی ہے۔ صرف گذشتہ ہفتے کے آخر میں تقریباً 2100 افراد اطالوی جزیرے لمپیڈوسا پر لنگرانداز ہوئے ہیں، جو ایک طویل عرصے سے غیر قانونی نقل مکانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us