پیر, جولائی 26 Live
Shadow
سرخیاں
لبنان میں سیاسی بحران و معاشی بدحالی: ارب پتی کاروباری شخصیت اور سابق وزیراعظم نجیب میقاطی حکومت بنانے میں کامیاب، فرانسیسی منصوبے کے تحت ملک کو معاشی بدحالی سے نکالنے کا اعلانجنگی جہازوں کی دنیا میں جمہوری انقلاب: روس نے من چاہی خوبیوں کے مطابق جدید ترین جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت کا اعلان کر دیا، چیک میٹ نامی جہاز ماکس-2021 نمائش میں پیشکیوبا میں کورونا اور تالہ بندی کے باعث معاشی حالات کشیدہ: روس کا خوراک، ماسک اور ادویات کا بڑا عطیہ، پریشان شہریوں کے انتظامیہ اور امریکی پابندیوں کے خلاف بڑے مظاہرےچینی معاملات میں بیرونی مداخلت ایسے ہی ہے جیسے چیونٹی کی تناور درخت کو گرانے کی کوشش: چین نے سابق امریکی وزیر تجارت سمیت 6 افراد پر جوابی پابندیاں عائد کر دیںمغربی یورپ میں کورونا ویکسین کی لازمیت کے خلاف بڑے مظاہرے، پولیس کا تشدد، پیرس و لندن میدان جنگ بن گئے: مقررین نے ویکسین کو شیطانی ہتھیار قرار دے دیا – ویڈیوجرمنی: پولیس نے بچوں اور جانوروں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو آن لائن پھیلانے والے 1600 افراد کا جال پکڑ لیا، مجرمانہ مواد کی تشہیر کیلئے بچوں کے استعمال کا بھی انکشافگوشت کا تبادلہصدر بائیڈن افغانستان سے انخلا پر میڈیا کے کڑے سوالوں کا شکار: کہا، امارات اسلامیہ افغانستان ۱ طاقت ضرور ہے لیکن ۳ لاکھ غنی افواج کو حاصل مدد کے جواب میں طالبان کچھ نہیں، تعاون جاری رکھا جائے گاامریکہ، برطانیہ اور ترکی کا مختلف وجوہات کے بہانے کابل میں 1000 سے زائد فوجی تعینات رکھنے کا عندیا: امارات اسلامیہ افغانستان کی معاہدے کی خلاف ورزی پر نتائج کی دھمکیچینی خلا بازوں کی تیانگونگ خلائی اسٹیشن سے باہر نکل کر خلا میں چہل قدمی – ویڈیو

موساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دی

موساد کے سابق سربراہ نے ریٹائر ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں اشارہ دیا ہے کہ ایرانی جوہری مرکز میں ہونے والے دھماکے اور ایک ایٹمی سائنسدان کے قتل کے پیچھے قابض صیہونی انتظامیہ کا ہاتھ تھا۔ یوسی کوہن نے انٹرویو میں ایران کو انتباہ بھی جاری کیا۔

گذشتہ سال جولائی میں ایران کے  نطنز جوہری مرکز پر سائبر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں زیر زمین جوہری تنصیب میں موجود بجلی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور جوہری مرکز نے کام چھوڑ دیا تھا۔

نومبر 2020 میں ایران کے جوہری پروگرام کو ایک اور دھچکا لگا جب اس کے ایک اعلیٰ جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو ایک خودکار مشین گن کے ذریعے سڑک پر شہید کردیا گیا، ایران نے ایک بار پھرموساد پر حملے کا ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

ان دونوں واقعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کوہن نے اشارہ دیا کہ انکی سربراہی میں موساد نے یہ دونوں حملے کیے۔ یاد رہے کہ کوہن 2016 سے موساد کے سربراہ ہیں اور حال ہی میں ریٹائر ہو ئے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران کے الزام کے باوجود قابض صیہونی انتطامیہ نے ہمیشہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

فخری زادے کے قتل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کوہن نے اعتراف کیا کہ ایرانی سائنسدان کے متعلق موساد کئی سالوں سے معلومات جمع کررہی تھی، کیونکہ صیہونی اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام پر فخری کے کام سے انتہائی پریشان تھا۔ انٹرویو لینے والےصحافی نے اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے دعوی کیا کہ اگرچہ کوہن اس کارروائی کی کھل کر ذمہ داری قبول نہیں کرسکتے ہیں، لیکن ان کے ذاتی دستخط پوری کاروائی پر موجود ہیں۔

انٹرویو میں جوہری منصوبے پر حملوں کے بارے میں اپنی رائے کے ساتھ کوہن نے ایرانی سائنسدانوں کو دعوت دی ہے کہ جو بھی ایرانی جوہری منصوبہ چھوڑنا چاہے گا اس کے لیے دنیا بھر کے صیہونی محفوظ رستہ و مواقع فراہم کریں گے۔

کوہن نے اس موقے پر ایران اور اس کے جوہری پروگرام میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو انتباہ جاری کیا کہ اگر وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے تو انہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

انٹرویو میں ایرانی قیادت کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کوہن نے اعلان کیا کہ اس میں دراندازی کردی گئی ہے اور قابض صیہونی انتظامیہ ساری سرگرمیاں دیکھ رہی ہے۔

ڈیوڈ بارنیہ، موساد کے نئے سربراہ نے کوہن کے ٹی وی انٹرویو پر کوئی رائے دہی نہیں کی ہے، اور نہ ہی اس کے درست یا غلط ہونےپر بات کی ہے۔ دوسری طرف ایران کی طرف سے بھی موساد کے سابق سربراہ کے انٹرویو پر اب تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us