اتوار, ستمبر 20 Live
Shadow

ڈینیئل پرل: عدالت عالیہ نے عدالت سندھ کے فیصلے کا حکم معطل کرنے کی حکومت سندھ کی درخواست مسترد کر دی

پاکستان کی عدالت عالیہ نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے مقدمے میں مبینہ ملوث ملزمان کو چھوڑنے کے صوبائی عدالتی فیصلے کو معطل کرنے کی حکومت سندھ کی درخواست رد کر دی ہے۔ عدالت نے سنوائی میں کہا کہ صوبائی حکومت کی درخواست خامیوں اور غیر متعلقہ دفعات سے بھری پڑی ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومت سے کہا کہ ثبوت فراہم کیے جائیں کہ اغواء ہوا، اور ڈینیئل پرل کا ہی اغواء کیا گیا، اور اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت اپنا یہ الزام بھی ثابت کرے کہ ساری سازش راولپنڈی میں تیار کی گئی۔ فاضل جج منظور ملک نے کہا کہ عدالت کو مقدمے کے تمام دستاویزات فراہم کیے جائیں، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ مقدمہ کیا ہے۔

مقدمے میں حکومت سندھ کے وکیل معروف قانون دان اور پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک کر رہے ہیں، جنہیں محاطب کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ملزمان کا اعترافی بیان اور پہچان قانون کے مطابق تھی یا نہیں، ہم حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اپریل 2020 میں ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں عدالت سندھ نے ملزم احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو ختم کرتے ہوئے اسے سات سال قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ ملزم 2002 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے کراچی سے اغواء اور قتل کے جرم میں قید کاٹ رہا تھا۔ عدالت نے مقدمے میں ملوث دیگر تین ملزمان کی عمر قید کو بھی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

عمر شیخ پر القائدہ کا رکن ہونے اور 1994 میں نئی دہلی میں تین برطانوی اور ایک امریکی شہری کو اغوا کرنے اور ان کے رہائی کے بدلے دس کشمیری رہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کرنے کا الزام بھی رہا ہے۔

عدالت عالیہ میں امریکی صحافی کے والدین نے بھی الگ سے ملزمان کے خلاف درخواست دے رکھی ہے، جسکی رہنمائی معروف وکیل فیصل صدیقی کر رہے ہیں۔ عدالت میں اپنا مدعہ پیش کرتے ہوئے فیصل صدیقی نے کہا کہ 2002 کا خصوصی مقدمہ نمبر 26، پاکستانی ریاست کے نظام انصاف کی عالمی سطح پر عکاسی ہے۔ پاکستان میں امریکی صحافی کا بیہمانہ قتل ہوا، یہ آزادی صحافت اور ملک میں غیر ملکی افراد کی حفاظت سے متعلق انتہائی اہمیت کا حامل ایک مقدمہ ہے۔ یہ عالمی دہشت گردی کے جال سے جڑا ایک ایسا مقدمہ ہے جسے عمومی جرائم کی طرح شک کی گنجائش کی بنیاد پر پرکھنا اور ملزمان کو رہائی دینا شدید نوعیت کے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے مزید کہا کہ عدالت سندھ کو تمام شہادتی اور دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے تھے تاہم عدالت نے انہیں غیر متعلقہ اور ناکافی کہتے ہوئے ماننے سے انکار کیا۔ عدالت نے اس بات کو بھی نظر انداز کیا کہ عمر شیخ عالمی دہشتگردی کے جال کا حصہ ہےاور اس نے رضاکارانہ طور پر جرم کا اقرار کیا تھا۔ عدالت سندھ کا فیصلہ قانون کی غلط اور منتخب تشریح کا نتیجہ ہے، جسے مسترد کیا جانا چاہیے۔

جسٹس منظور ملک نے مقدمے کی سنوائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے سندھ حکومت کو تمام دستاویزات جمع کروانےکا حکم دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply