منگل, ستمبر 29 Live
Shadow

کائنات کے راز جاننے میں ایک اور اہم کامیابی

انسان کائنات کی ایکسرے شبیہ بنانے میں کامیاب ہو گیا!

روس اور جرمنی کے خلائی تحقیق کے ماہرین نے کائنات کی پہلی ایکسرے تصویر بنا لی ہے جسے باقائدہ طور پر جاری بھی کر دیا گیا ہے۔ ایکسرے شبیہ ’ای روسیٹا‘ نامی ایکسرے خلائی دوربین سے بنائی گئی ہے، جس میں دس لاکھ سے زیادہ فلکی اجسام کو ایکسرے شعاعیں خارج کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ای روسیٹا کو 2019 میں خلاء میں ’’اسپیکٹرم روئنتجن گیما‘‘ (ایس آر جی) کے اہممنصوبے کے تحت بھیجا گیا تھا۔ جس کا مقصد ’’تاریک توانائی‘‘ پر تحقیق کرنا ہے، اور مختلف اجرامِ فلکی سے خارج ہونے والی ایکسرے شعاعوں کا مشاہدہ کرنا ہے۔

اگرچہ ایکسریے شعاعیں بھی برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) شعاعیں ہوتی ہیں تاہم ان کی توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے اور انہیں انسانی آنکھ سے دیکھا بھی نہیں جا سکتا۔ سورج سے دیگر کئی اقسام کی شعاعوں کے ساتھ ایکسرے شعاعیں بھی خارج ہوتی ہیں جنہیں زمینی فضاء کا حفاظتی غلاف اوزون ہم تک پہنچنے سے روک لیتا ہے اور ہم ان شعاعوں کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہتے ہیں۔

طبّی تشخیص میں ایکسریز کا استعمال گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے جو آج ایک معمول کی بات ہے۔ تاہم بہت زیادہ ایکسرے کروانے کا نتیجہ بھی کینسر کی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ جب بلیک ہول اپنے ارد گرد کے مادّے کو ’’ہڑپ‘‘ کرتے ہیں تو اس سے بھی زبردست ایکسرے شعاعیں خارج ہوتی ہیں جنہیں سائنسدانوں نے بلیک ہول میں گرتے ہوئے مادّے کی ’’آخری چیخ‘‘ کا نام دیا ہے۔

ماہرین کی جانب سے تصویر میں ایسے ہی کئی ستارے اور بلیک ہولز دیکھے جاسکتے ہیں جنہیں انسانی آنکھ کےلیے قابلِ مشاہدہ بنانے کی غرض سے الگ الگ رنگ دیئے گئے ہیں۔

کائنات کی اس پہلی ایکسرے تصویر میں دس لاکھ سے زائد فلکیاتی اجسام کو ایکسرے شعاعیں خارج کرتے دیکھا جاسکتا

منصوبے کی انتظامہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کائنات کے ایکسرے کا منصوبہ، ای روسیٹا چار سال پر محیط ہے جو 2023 میں مکمل ہوگا۔ تاہم جاری کردہ تصویر صرف 6 ماہ میں کیے گئے معائنے کا نتیجہ ہے۔ منصوبے کا مقصد نہ صرف کہکشاؤں کے مرکزوں میں موجود عظیم اجسام خصوصاً بلیک ہول کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی ہزاروں کہکشاؤں، جھرمٹوں کا باریک بینی سے جائزہ بھی لینا ہے جنہیں کائنات کی سب سے کمزور قوت ’’کششِ ثقل‘‘ نے بڑی مضبوطی سے آپس میں باندھ رکھا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کہکشانی جھرمٹوں کی ساخت اور ان میں حرکت سے متعلق تفصیل سے جان کر ہم اس قابل ہوسکیں گے کہ ’’تاریک توانائی‘‘ کے بارے میں بھی کچھ بتا سکیں، جسے ایک ایسی ’’پراسرار‘‘ توانائی بھی قرار دیا جاتا ہے جو کائناتی پھیلاؤ کی رفتار میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔

ای روسیٹا کا 6 ماہ میں ایکسرے شعاعوں کی مدد سے کیا جانے والا کائنات کا مشاہدہ پچھلے 60 سال کے دوران فلکیات میں کیے گئے تمام مشاہدات سے دُگنا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں