جمعرات, اکتوبر 29 Live
Shadow

نئی قسم کا کورونا وائرس پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے: جدید تحقیقی مطالعہ

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ موجودہ کورونا وائرس اس اصل وائرس سے تین سےچھ گنا زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتا ہے ۔ سائنسی جریدے ‘سَیل‘میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کووڈ 19 کی متغیر شکل جو اس وقت دنیا کے لاتعداد انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، اس انفیکشن  سے کہیں زیادہ شدید اور مہلک ہے، جس کا پھیلاؤ چین سے شروع ہوا تھا۔

متعدی بیماریوں کے امریکی ماہر ایتھونی فاؤچی نے امریکہ کی میڈیکل ایسو سی ایشن کے جریدے سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس تحقیق سے واضح ہوا کہ ایک ایسی میوٹیشن یا تغیر شدہ سیل پایا جاتا ہے جو وائرس کو بہتر انداز میں اپنے جیسی خصوصیات کے حامل خلیے کے عمل کو دہرانے میں مدد دیتا ہے اور غالباً اس میں وائرل ہونے کی کہیں زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر فاؤچی اگرچہ اس تحقیق کا حصہ نہیں ہیں تاہم وہ خود امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے مسلسل خبردار کر رہے ہیں اور ابھی کچھ  روز قبل ہی انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکہ میں کووڈ انیس کے کیسز کی یومیہ تعداد ایک لاکھ تک بھی ہو سکتی ہے۔

ان ٍکےنزدیک اس وائرس میں قوت مزاحمت زیادہ ہے اور یہ اپنے اثرات کو دوہرانے کی کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں منتقلی کی صلاحیتیں بھی کہیں زیادہ ہیں۔‘‘

یہ نئی تحقیق امریکی ریاست نیو میکسیکو میں لاس الاموس نیشنل لیبارٹری اور نارتھ کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی کے محققین نے یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے کووڈ-19 جینومکس برطانیہ ریسرچ گروپ کی شراکت سے کی، جس میں ان تمام سائنسدانوں نے پتا لگایا کہ اس وائرس کی موجودہ شکل جی614 ڈی کی پروٹین میں ایک چھوٹی لیکن اہم تبدیلی آئی ہے، جو اس وائرس کی سطح پر موجود  ہے اور  یہ انسانی خلیوں پر آسانی سے حملہ کر کے انفیکشن کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن رہی ہے۔

اپریل میں اس تحقیق کے ابتدائی نتائج پیش کیے گئے تھے۔ تاہم ناقدین نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ میوٹیشن بذات خود اس وائرس کے زیادہ مؤثر ہونے کا سبب ہے۔ ان ناقدین نے کہا تھا کہ اس میں دیگر عوامل کا کردار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد مزید تجربات کیے گئےاور برطانیہ کے ایک ہسپتال میں کووڈ 19 کے 999 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ دیکھاگیا کہ وہ مریض جن کی حالت بدل رہی تھی، ان میں وائرل ذرات پائے گئے تھے لیکن ان ذرات کا ان مریضوں کی بیماری کی شدت پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ تاہم لیبارٹری تجربات نے دریں اثناء یہ ثابت کیا ہے کہ ‘مختلف یا متغیر خلیات‘ میں انسانی خلیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت تین سے چھ گنا تک زیادہ ہے۔

فی الحال اس تحقیق کے نتائج کو صرف ‘امکانی‘ ہی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اس طرح کے تجربات کسی وبائی مرض کے محرکات  کی درست طور پر وضاحت نہیں کرتے۔اس وقت کورونا وائرس اپنی متغیر شکل میں بہت زیادہ گردش میں ہے۔ اس لیے  موجودہ حالت میں اسے زیادہ ‘متعدی‘ سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ انسانوں کے مابین اس جرثومے کی ‘منتقلی‘ کم ہو۔

ژیل اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہر وائرالوجسٹ نیتھن گروباف، جو اس مطالعے میں شامل نہیں تھے، نے کہا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج سے عام لوگوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے بقول، ”اگرچہ اب بھی یہ جاننے کے لیے اہم مطالعات کی ضرورت ہے کہ آیا اس سے مؤثر انداز میں ادویات یا کسی ویکسین کی تیاری پر کوئی اثر پڑے گا۔ ہم یہ توقع نہیں کر رہے کہ جی 614 ڈی کورونا وائرس کے بارے میں ہمارے حفاظتی اقدامات میں کوئی تبدیلی لائے گا یا انفرادی کیسز میں انفیکشن کو بدتر بنا دے گا۔‘‘

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں