Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

Author: مدیر

لیبیا خانہ جنگی میں حالات کشیدہ – ترکی کے بعد مصر بھی فوج اتارنے کو تیار: مسلم  ممالک میں ٹکراؤ کا خطرہ

لیبیا خانہ جنگی میں حالات کشیدہ – ترکی کے بعد مصر بھی فوج اتارنے کو تیار: مسلم ممالک میں ٹکراؤ کا خطرہ

روس دنیا میں, عالمی
 لیبیا میں 2011 میں نیٹو کی فوجی مداخلت نے ملک کے معروف حکمران معمر قذافی کا تحتہ تو الٹ دیا تاہم 9 سال گزرنے کے باوجود ملک کی سیاسی و دفاعی صورتحال دگرگوں ہے۔ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ بڑے قومی اتحاد (جی این او) کو ترکی، اٹلی اور قطر کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ طور پر کسی حد تک روس کے علاوہ دیگرعالمی طاقتوں اور اداروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج (ایل این اے) کو بڑی عالمی طاقتوں کی حمایت تو حاصل نہیں تاہم روس، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک اس گروہ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ترکی، قطر اور اٹلی کے حمایت یافتہ گروہ نے ترک فوج کی براہ راست مداخلت سے خانہ جنگی کا پانسہ پلٹا تو مخالف گروہ کی جانب سے تشویش کا اظہار سامنے آیا۔ تاہم کسی قسم کی سنوائی نہ ہونے پر بالآخر مصر نے میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور قومی پارلیمان می...
خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی  پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خاندان و معاشرہ, نظامت
محققین کے مطابق سن 2064 کے بعد دنیا کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی تاہم عالمی شرحِ تولید میں ہونے والی اس ’حیرت انگیز‘ کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا پوری طرح سے تیار نہیں ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر موجودہ سیاسی نظام ہی جاری رہا تو اس صدی کے اختتام تک ہر ملک کی آبادی میں کمی واقع ہو گی اور 23 ممالک کی آبادی، جن میں سپین اور جاپان بھی شامل ہیں، سنہ 2100 تک آدھی رہ جائے گی۔ جسکا بلاواسطہ مطلب یہ بھی ہے کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا اور بہت سے شہری 80 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس کا سبب کچھ اور نہیں بلکہ عورتوں کی شرح تولید میں کمی یعنی بچوں کو نہ پیدا کرنے کے رحجان کا پروان چڑھنا ہے۔ اگر ایک عورت کے بچے جننے کی شرح 2.1 سے کم ہو جائے تو آبادی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ سنہ 1950 میں ایک عورت زندگی میں اوسطاً 4.7 بچوں کو جنم دیتی تھ...
کیا کھائیں، کیا نہیں۔۔۔؟

کیا کھائیں، کیا نہیں۔۔۔؟

صحت و خوراک, طب, علمی تحریریں, معلومات عامہ
ڈاکٹر شاہد رضا ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک عمومی سوال کہ آج کیا پکائیں تو ہے ہی پر عموماً مریض بھی ڈاکٹروں سے ایک سوال پوچھتے نظر آتے ہیں جو ہے؛ کیا کھائیں کیا نہ کھائیں۔۔۔؟ہمیں سب سے پہلے اپنی خوراک میں دو چیزیں ٹھیک کرنی ہیں۔ ایک پینے کا پانی اور دوسرا آٹا۔ حسب موسم پانی دن میں وقفے وقفے سے پیتے رہیں اور روٹی تین دفعہ نہیں تو دو دفعہ ضرور کھائیں۔ اور ہو سکے تو سالن ایک وقت سے زیادہ استعمال مت کریں، یعنی تازہ کھانا تناول فرمائیں۔فیکٹریوں کی وجہ سے زیر زمین پانی میں مختلف قسم کے کیمیکل اور غلاظتیں حل ہو گئیں ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ کم گہرائی سے حاصل کیا گیا پانی زیادہ مضر صحت ہے۔ زیادہ گہرائی سے حاصل شدہ پانی قدرے بہتر ہے۔ پھر بھی پانی کا ٹی ڈی ایس چیک کریں اور اگر نمکیات کی مقدار زیادہ ہے توٹیسٹ میں ٹی ڈی ایس زیادہ آئے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 30...
صدر ٹرمپ کے خلاف لبرلوں کے بھونڈے ہتھکنڈے جاری: پراپیگنڈہ سےبھری ایک اور کتاب شائع

صدر ٹرمپ کے خلاف لبرلوں کے بھونڈے ہتھکنڈے جاری: پراپیگنڈہ سےبھری ایک اور کتاب شائع

اداریہ
آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے امریکہ میں غیر اعلانیہ انتخابی مہم جاری ہے، جس میں گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی امیدواروں کی نجی کردار کشی کا سلسلہ زوروں پر نظر آرہا ہے۔ جس کا خصوصاً شکار دبنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ہیں جن کے خلاف ڈیموکریٹ نے گزشتہ انتخابات میں بھی کردار کشی کی شدید مہم چلائی تاہم معاشی بدحالی اور لبرل طبقے کی جنگی جنونیت سے تنگ امریکی عوام نے صدر ٹرمپ کو ملک کا صدر منختب کیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی عوامی امنگوں پر پورا اترتے اور اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کو معاشی بدحالی سے نکالا، ملک میں لاکھوں ملازمتوں اور نئے کاروبار کا بندوبست کیا اور عالمی سطح پر بھی اہم اور مشکل فیصلے کیے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف مختلف مسلم ممالک مثلاً افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں عراق اور شام کی طویل ہوتی جنگوں کے خاتمے کی دا...

Contact Us