منگل, April 20 Live
Shadow

سیاست

نسلی تعصب اور نظام میں خرابی: امریکہ میں آئندہ 5 برسوں میں مسلح شورش شروع ہو سکتی ہے، تحقیق

نسلی تعصب اور نظام میں خرابی: امریکہ میں آئندہ 5 برسوں میں مسلح شورش شروع ہو سکتی ہے، تحقیق

سیاست
امریکہ شدید سماجی تقسیم سے دوچار ہے، اگر فوری فوجداری قوانین اور پولیس کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مسلح شورش شروع ہو سکتی ہے۔ یہ کہنا ہے مسلح شورش کے ماہر تیمیتوپ اوریولا کا، جو افریقہ میں بغاوتوں کے ماہر مانے جاتے ہیں۔جامعہ البرٹا کے پروفیسر اور افریقی سکیورٹی جریدے کے مدیر اعلیٰ تیمیتو اوریولا دنیا بھر میں مسلحہ سماجی بغاوتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، اوریولا کا کہنا ہے کہ امریکی سماج میں بڑھتی کشیدگی واضح طور پر خانہ جنگی اور مسلح شورش کا اشارہ ہے۔اپنے نئے مقالے میں سیاہ فام امریکیوں کے پولیس کے ہاتھوں بڑھتے قتل اور سماجی تعصب پر تیمیتوپ کا کہنا ہے کہ حالات بہت بگڑ گئے ہیں، حکومت نے فوری طور پر پولیس میں اصلاحات نہ کیں تو آئندہ پانچ سال میں مسلح شورش شروع ہو سکتی ہے، جس کا نشانہ پولیس ہو گی۔تیمیتوپ نے میکسیکو میں زاپاتستا اور نائیجیریا میں ہونے والی مسلح بغاوتوں کا حوال...
کیوبا: کاسترو خاندان 60 سال بعد اقتدار سے الگ، راعل کاسترو نے پارٹی عہدہ بھی چھوڑ دیا، قیادت نوجوانوں کو دینے کا اعلان

کیوبا: کاسترو خاندان 60 سال بعد اقتدار سے الگ، راعل کاسترو نے پارٹی عہدہ بھی چھوڑ دیا، قیادت نوجوانوں کو دینے کا اعلان

سیاست
کیوبا کمیونسٹ جماعت کے سربراہ راعل کاسترو نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر سابق صدر اور انقلابی رہنما فیڈل کاسترو کے بھائی کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان نسل کو ملک کی قیادت سونپنا چاہتے ہیں، جو استعماری قوتوں کے خلاف زیادہ قوت سے لڑ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کاسترو خاندان 1961 سے کیوبا کی کیمونسٹ جماعت کی قیادت کر رہی ہے۔ہوانا میں کنونشن تقریب سے خطاب میں راعل کاسترو کا کہنا تھا کہ وہ جب تک زندہ ہیں، کیوبا اور ملکی نظریے کے دفاع کے لیے ہمیشہ لڑنے کو تیار رہیں گے۔ راعل 2011 میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے تھے، اس سے پہلے فیڈل کاسترو 1961 سے عہدے پر فائز تھے۔ 1959 میں کامیاب بغاوت کے بعد سے کاسترو خاندان ہی ملک کو استعماری قوتوں سے بچائے ہوئے ہے۔راعل کاسترو 2018 میں ملک کی صدارت سے بھی الگ ہو گئے تھے لیکن کیمونسٹ جماعت کے سربراہ کا عہدہ انہوں نے اپنے پاس رکھا تھا۔ یاد رہے کہ کیو...
نسلی تعصب امریکہ کے بنیادی ڈھانچے اور غیردستاویزی آئین/روایات کا حصہ ہے: اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی تقریر، نسل پرست گروہوں کا شدید برہمی کا اظہار

نسلی تعصب امریکہ کے بنیادی ڈھانچے اور غیردستاویزی آئین/روایات کا حصہ ہے: اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی تقریر، نسل پرست گروہوں کا شدید برہمی کا اظہار

سیاست
لِنڈا تھامس گرین فیلڈ، اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر آج کل سفید فام افراد کی کڑی تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔ لِنڈا تھامس کو انکی ایک تقریر میں امریکہ کے ریاستی ڈھانچے اور آئین میں نسلی تعصب کی بنیاد ہونے کا کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کڑوے سچ والی تقریر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ادا گئی تھی، جس کی دوبارہ رکنیت کے لیے امریکہ متمنی ہے۔ یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی رکنیت ترک کر دی تھی۔https://twitter.com/JesseKellyDC/status/1382405644683259905?s=20تقریر میں لِنڈا تامس کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ امریکہ ایک ناقص اور بوسیدہ اتحاد میں جی رہا ہے، اور یہ نقص اسکی بنیاد سے اس کے ساتھ جُڑا ہے۔ سرکاری تقریر میں بیانیے کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ یہ نقص دراصل غلامی کا گناہ ہے، جس کے تحت سفید فام کو دیگر نسلوں ...
ہمارا مقصد ٹرمپ کو نکالنا تھا، ہم کامیاب رہے: سی این این عہدے دار کا صدر ٹرمپ کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم کا اعتراف – ویڈیو عیاں

ہمارا مقصد ٹرمپ کو نکالنا تھا، ہم کامیاب رہے: سی این این عہدے دار کا صدر ٹرمپ کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم کا اعتراف – ویڈیو عیاں

ابلاغ
معروف امریکی یو ٹیوب چینل ویریٹاس نے سی این این ڈائیریکٹر چارلی چیسٹر کی ویڈیو نشر کی ہے جس میں معروف ٹی وی چینل کے اعلیٰ عہدے دار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف باقائدہ پراپیگنڈا مہم چلانے کا اعتراف کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو میں چارلی بے باکی سے اعتراف کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو سرائے ابیض سے ہٹانے میں سی این این کا ہی کردار تھا۔https://youtu.be/Dv8Zy-JwXr4چارلی نے انکشاف کیا ہے کہ کیسے سی این این نے ٹرمپ کے بیمار ہونے کی مہم چلائی، اور جوبائیڈن کو تندرست اور توانا دکھایا۔ جس کا مقصد عام شہریوں کو یہ باور کروانا تھا کہ ٹرمپ صدارت کے لیے موضوع نہیں۔چیسٹر کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈاکٹروں کو سکرین پر دکھایا جو ٹرمپ کے بارے میں افواہیں پھیلانے میں ہماری مدد کرتے، اور حتیٰ کہ صدر کے بیمار ہونے کا ذمہ دار بھی انہی کو ٹھہراتے، جیسے کہ صدر کی ہاتھ ملانے کی عادت پر باقائدہ رپورٹیں بنائی ...
امریکہ: ایک اور سیاہ فام کی پولیس افسر کے ہاتھوں موت، پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہرے شروع

امریکہ: ایک اور سیاہ فام کی پولیس افسر کے ہاتھوں موت، پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہرے شروع

سیاست
امریکہ میں ایک اور سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں موت پر فورٹ لینڈ شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے ہیں۔ داؤنتے رائٹ نامی سیاہ فام کو پولیس افسر نے گولی مار کر موت کے گھاٹ اتارا جس پر شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔https://twitter.com/ByMikeBaker/status/1381812178219454467?s=20پولیس پر تشدد مظاہروں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، پر مظاہرین کی بڑی تعداد انکے کنٹرول سے باہر ہے۔ مظاہرین پولیس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور رائٹ کی موت کو محکمانہ تعصب کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔https://twitter.com/TheMarieOakes/status/1381818521651412993?s=20اطلاعات کے مطابق 20 سالہ نوجوان رائٹ کو تلاشی کے لیے روکا گیا اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس سے بچنے کے لیے رائٹ بھاگنے لگا تو کِم پوٹر نامی خاتون افسر نے اسے فوری گولی مار دی، جس سے رائٹ کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ محکمے نے تحقیقات شروع...
جاگو استعماریت دوبارہ سر اٹھا رہی ہے: سی این این کی افغان جنگ کی طوالت کے لیے شروع مہم پر صارفین کا ردعمل

جاگو استعماریت دوبارہ سر اٹھا رہی ہے: سی این این کی افغان جنگ کی طوالت کے لیے شروع مہم پر صارفین کا ردعمل

ابلاغ
امریکی لبرل ٹی وی نیٹ ورک سی این این کی افغانستان سے فوجی انخلاء کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر شہریوں کی جانب سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے، صارفین نے اسے استعماری مہم کا نام دیا ہے۔سی این این کا مؤقف ہے کہ امریکی انخلاء سے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کو دھچکہ لگے گا، مہم میں ڈیموکریٹ ارکان کانگریس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی انتظامیہ کے متعدد افراد کو بھی بطور ھوالہ پیش کیا جا رہا ہے جو امریکی انخلاء کو غلطی قرار دے رہے ہیں۔ سی این این کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہر طرح کا دباؤ مسترد کرتے ہوئے افغانستان میں قیام کرنا چاہیے اور انخلاء کیلئے کسی قسم کی تاریخ بھی نہیں دینی چاہیے۔سی این این مہم میں بار بار خواتین اور انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے امریکہ کو اسکا علمبردار قرار دے رہا ہے اور صدر بائیڈن کے یکم مئی کو مکمل انخلاء کے فیصلے کو د...
کیلیفورنیا میں سفید فام نسل پرست اور سیاہ فام گروہوں کا بیک وقت جلوسوں کا اعلان: تصادم کے پیش نظر پولیس متحرک

کیلیفورنیا میں سفید فام نسل پرست اور سیاہ فام گروہوں کا بیک وقت جلوسوں کا اعلان: تصادم کے پیش نظر پولیس متحرک

سیاست
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں نسل پرست گروہوں کے ممکنہ تصادم کے پیش نظر ریاستی پولیس متحرک ہو گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ریاست میں تاریخی سفید فام نسل پرست گروہ کو کلکس کلین نے ایک جلوس کا اعلان کیا ہے، جس کا نام سفید فاموں کی زندگی اہم ہے رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کو کلکس کلین ایک کالعدم گروہ ہے جس کے سر لاکھوں سیاہ فام امریکیوں کا قتل اور نسل کشی کا الزام ہے۔ جلوس کے اعلان کے جواب میں سیاہ فام افراد نے بھی جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے ، جس کے باعث پولیس نے ممکنہ تصادم کے خطرے کے پیش نظر حکمت عملہ وضع کرنا شروع کر دی ہے۔https://twitter.com/CMTYCtrlPolice/status/1380774149484769280?s=20سماجی میڈیا پر اشتہارات کے مطابق جلوس اتوار کے روز شام کے وقت ریاست کے مشغول سمندری کنارے ہنٹنگٹن کے مقام پر نکالے جائیں گے۔https://twitter.com/strychninelove/status/1380903360186966021?s=20...
دفاعی بجٹ بڑھانے پر صدر بائیڈن سخت تنقید کی زد میں: امریکی سیاسی جماعتیں اسلحہ ساز کمپنیوں کے چنگل میں اور فوج میں بدعنوانی کی چہ مگوئیاں پھر عروج پر

دفاعی بجٹ بڑھانے پر صدر بائیڈن سخت تنقید کی زد میں: امریکی سیاسی جماعتیں اسلحہ ساز کمپنیوں کے چنگل میں اور فوج میں بدعنوانی کی چہ مگوئیاں پھر عروج پر

سیاست
امریکی صدر جوبائیڈن کو فوج کا بجٹ بڑھانے پر سخت تنقید کا سامنا ہے اور اب یہ تنقید خود انکی اپنی جماعت کے ارکان کانگریس کی جانب سے بھی آرہا ہے۔ صدر بائیڈن نے اگلے مالی سال کے لیے فوج کا بجٹ 753 ارب ڈالر کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں سے 715 ارب براہ راست پینٹاگون کو دیا جائے گا۔۔https://twitter.com/RBReich/status/1380611623128158209?s=20یاد رہے کہ اضافہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 740 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے، جو خود ایک بڑے اضافے کے نتیجے میں کیا گیا تھا۔ کانگریس ارکان کا کہنا ہے کہ وباء کے دوران دفاعی بجٹ میں اتنا بڑا اضافہ کسی صورت قابل ستائش نہیں۔ وباء کے دوران ہمیں بڑھتی طبقاتی تقسیم کو کم کرنے پہ کام کرنا چاہیے، عام امریکیوں کو آسانی مہیا کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے ناکہ انکے لیے مزید مشکلات کا باعث بنیں۔https://twitter.com/SenMarkey/status/1380624512522317826?s=20اس کے علاوہ...
والدین کے بغیر بچوں کے امریکہ میں داخلے میں حددرجہ اضافہ، مارچ میں 19 ہزار ننھے پھول امریکی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑے گئے، کیمپوں میں بچوں سے جنسی زیادتی وبیماریوں میں بھی اضافہ: بائیڈن خاموش

والدین کے بغیر بچوں کے امریکہ میں داخلے میں حددرجہ اضافہ، مارچ میں 19 ہزار ننھے پھول امریکی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑے گئے، کیمپوں میں بچوں سے جنسی زیادتی وبیماریوں میں بھی اضافہ: بائیڈن خاموش

سیاست
گزشتہ تین ماہ میں کولمبیا سے امریکہ میں والدین کے بغیر داخل ہونے والے بچوں کی تعداد میں حددرجہ اضافہ ہوا ہے، امریکی سرحدی پولیس کا کہنا ہے کہ صرف مارچ کے مہینے میں 19 ہزار بچے امریکہ میں داخل ہوئے یعنی یومیہ 633 سے زائد بن ماں باپ بچے امریکہ میں داخل ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ صدر جوبائیڈن سابق صدرٹرمپ کو؛ ان بچوں کو کیمپوں میں رکھنے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور یہ مدعہ انکی انتخابی مہم کا اہم حصہ تھا، صدر بائیڈن ان کیمپوں کو جرمنی کے نازی کیمپوں سے تشبیہ دیتے تھے اور صدر ٹرمپ کو ظالم کا خطاب دیتے تھے۔ ڈیموکریٹ جماعت اسے نسلی تعصب سے شبیہ دیتے ہوئے سہولیات بہتر بنانے پر زور دیتے تھے اور خود منتخب ہوتے ہی ان بچوں کو قانونی دستاویزات دینے کا اعلان کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن اب فتح تو درکنار خلف اٹھائے بھی 4 ماہ ہو گئے ہیں لیکن کوئی عملی قدم یا پالیسی سامنے نہیں آئی۔مقامی پولیس کا مختل...
دوسروں کو نصیحت خود میاں وصیت: ناروے وزیراعظم کورونا تالہ بندی کے دوران سالگرہ مناتی پکڑی گئیں، پولیس نے 360 ہزار جرمانہ کر دیا

دوسروں کو نصیحت خود میاں وصیت: ناروے وزیراعظم کورونا تالہ بندی کے دوران سالگرہ مناتی پکڑی گئیں، پولیس نے 360 ہزار جرمانہ کر دیا

سیاست
ناروے پولیس نے کورونا تالہ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر وزیراعظم ایرنا سولبرگ کو 20 ہزار کرونا جرمانہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم خود اپنے بنائے تالہ بندی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سالگرہ منا رہی تھیں جس میں اہل خانہ اور دوستوں کی بڑی تعداد موجو دتھی۔ جس پر پولیس نے چھاپہ مارتے ہوئے سکیویڈیوین ملک کی وزیراعظم کو ڈائی ہزار ڈالر کے قریب جرمانہ کر دیا۔پولیس نے جرمانے کی اطلاع باقائدہ پریس کانفرنس میں دی ہے۔ پولیس نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ اگرچہ زیادہ تر واقعات میں جرمانہ نہیں کیا جاتا لیکن وزیراعظم کو جرمانہ کر کے ایک مثال بنائی گئی ہے۔ وزیراعظم کو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جرمانے سے عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھے گا۔وزیراعظم کے دفتر سے واقعے پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا، البتہ ایک معافی نامی ضرور شائع کیا گیا ہے۔معافی نامے میں وزیراعظم نے لک...