ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

ابلاغ

شمالی کوریا کی عسکری نمائش کی رپورٹ تائیوان کی ویڈیو کے ساتھ نشر کرنے پر بی بی سی کی جگ ہنسائی

شمالی کوریا کی عسکری نمائش کی رپورٹ تائیوان کی ویڈیو کے ساتھ نشر کرنے پر بی بی سی کی جگ ہنسائی

ابلاغ
برطانوی نشریاتی ادارے کو بروز ہفتہ اس وقت انتہائی شرمندگی اٹھانا پڑی جب اس نے شمالی کوریا کی عسکری نمائش کی رپورٹ میں تائیوان کی عسکری نمائش کی ویڈیو نشر کر دی۔ویڈیو میں واضح طور پر تائیوان کے جھنڈے اور قیادت کو دیکھاجا سکتا ہے تاہم بی بی سی کی غلطی نے اسے سماجی ابلاغی ویب سائٹوں پر صارفین کی تنقد اور مزاح کا خوب نشانہ بنایا۔https://twitter.com/DorinPohPoh/status/1314861233216995328?s=20ایک صارف نے لکھا کہ غلطی جھنڈوں کی مماثلت کی وجہ سے ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ نے ادارے کی انتظامیہ کو جاہل اور خطے سے ناواقف قرار دیا۔https://twitter.com/charles04201/status/1314882769307070464?s=20غلطی پر بی بی سی کو بعد میں معافی مانگنا پڑی۔https://twitter.com/LazyWorkz/status/1314798220019671040?s=20...
بی بی سی میزبان کا ماسک نہ پہننے پر شہریوں کو ہراساں کرنا مہنگا پڑ گیا، سوشل میڈیا پر کڑی تنقید

بی بی سی میزبان کا ماسک نہ پہننے پر شہریوں کو ہراساں کرنا مہنگا پڑ گیا، سوشل میڈیا پر کڑی تنقید

ابلاغ
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ایک پروگرام کے میزبان کو سماجی میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ انکا شہریوں کو ماسک نہ پہننے پر سڑکوں پر ہراساں کرنا ہے۔سٹیفن نولان نامی میزبان نے اپنے ایک پروگرام کے لیے سڑکوں کا رخ کیا اور وہاں ماسک نہ پہننے والوں کو غیر ذمہ دار پکارتے رہے۔ جس پر شہریوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔https://twitter.com/vinnybelfast/status/1313931501780766722?s=20ایک شہری نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ کچھ شہریوں کا ماسک نہ پہننے والوں پر اعتراض سمجھ میں آتا ہے لیکن کیا اس سے بی بی سی کے میزبان کو شہریوں کو ویڈیو بناتے ہوئے ہراساں کرنے کی اجازت مل جاتی ہے؟ ادارے کی انتظامیہ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟https://twitter.com/DenzilMcDaniel/status/1313918912069881859?s=20ایک اور شہری نے جیسے شدید ناراضگی میں لکھا ہے کہ "نولان خود کو سمجھتا کیا ہ...
امریکہ روسی، چینی اور ترک خبر رساں اداروں کے بعد قطری الجزیرہ کو بھی غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے پر تل گیا

امریکہ روسی، چینی اور ترک خبر رساں اداروں کے بعد قطری الجزیرہ کو بھی غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے پر تل گیا

ابلاغ
امریکی انتظامیہ نے معروف آن لائن خبر رساں ادارے اے جے پلس اور الجزیرہ کوغیر ملکی ایجنٹ قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ امریکہ کے مقامی میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سربراہ برائے انسداد جاسوسی کے سربراہ جے براٹ نے قطر کے الجزیرہ نیٹ ورک اور ملکی اداروں کو ایک خط میں لکھا ہے کہ ادارتی خود مختاری کے برخلاف الجزیرہ اور اس کے ذیلی ادارے قطر کی حکومت سے امداد پر چلتے ہیں۔ ایسے میں الجزیرہ اور اے جے پلس کو فارا 1938 قانون کے تحت غیر ملکی جاسوس قرار دے دینا چاہیے۔یاد رہے کہ امریکی انتظامیہ 2018/18 میں چینی، روسی خ اور ترک خبررساں اداروں کے خلاف بھی ایسی کارروائیاں کر چکی ہے۔الجزیرہ کی صحافی ثناء سعید نے کارروائی کو آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اے جے پلس کے لیے کام کرنے والے صحافیوں اور شعبہ صحافت کے لیے پریشان ہیں۔https://twitter.com/SanaSaeed/status/...
روس طالبان کو امریکی فوجی مارنے کے لیے رقوم دیتا تھا، اسکا کوئی ثبوت نہیں ملا: امریکی جنرل

روس طالبان کو امریکی فوجی مارنے کے لیے رقوم دیتا تھا، اسکا کوئی ثبوت نہیں ملا: امریکی جنرل

ابلاغ, روس
امریکی خبررساں اداروں کی روس کے حوالے سے ایک اور خبر غلط ثانت ہو گئی ہے۔ 3 ماہ قبل امریکی خبر رساں اداروں نے الزام لگا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کو مارنے کے لیے روس طالبان کو بھاری رقوم دیتا رہا ہے، جس کی روس نے تردید کرتے ہوئے ثبوت فراہم کرنے کا کہا تھا۔تاہم دو ماہ کی تحقیقات کے بعد امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملے جس کے ذریعے نیویارک ٹائمز کی خبر کو ثابت کیا جاسکے۔ امریکی فوج کے جنرل فرینک میکینزی کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کوئی تسلی بخش ثبوت نہیں ملے ہیں، جن سے الزامات کو سچ ثابت کیا جا سکے، تاہم ہم چھان بین کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔https://twitter.com/NBCInvestigates/status/1305520323572445190?s=20تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر اس خبر کا مقصد افغان امن عمل کو ثبوتاژ کرنا اور صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کو متاثر کرنا لگتا ہے، کیونکہ امریکی ف...
ٹویٹر کی کھاتوں کی نشاندہی کی متعصب پالیسی کا ایک فرانسیسی ادارہ بھی شکار: ماہرین کے مطابق عمل نرم سنسرشپ اور غداری کے الزامات لگانے کے مترادف ہے

ٹویٹر کی کھاتوں کی نشاندہی کی متعصب پالیسی کا ایک فرانسیسی ادارہ بھی شکار: ماہرین کے مطابق عمل نرم سنسرشپ اور غداری کے الزامات لگانے کے مترادف ہے

ابلاغ, فن/ٹیکنالوجی
ٹویٹر نے غلطی سے فرانسیسی خود مختار ابلاغی ادارے روپچو کے کھاتے پر روسی حکومت کے نمائندہ ادارے کا نشاندہی پیغام لگا دیا ہے۔ جس کے ردعمل میں یورپی سماجی میڈیا پر گرما گرم بحث چل رہی ہے۔یاد رہے کہ ٹویٹر نے گزشتہ ماہ دنیا بھر میں غیر لبرل خبر رساں اداروں اور حکومتی ابلاغی اداروں کے ساتھ ساتھ حکومتی اہلکاروں کے ٹویٹر کھاتوں پر خصوصی نشاندہی کا پیغام چسپاں کرنے کی پالیسی شروع کا آغاز کیا تھا۔ٹویٹر کی کارروائی کا شکار ایک فرانسیسی خبررساں ادارہ روپچو بھی بنا ہے۔ تاہم اب تک یہ عیاں نہیں ہو سکا کہ یہ غلطی سے ہوا ہے یا ٹویٹر نے کسی تعصب کی بناء پر ایسا کیا ہے۔البتہ فرانسیسی ادارے کے مطابق روپچو ایک خودمختار ادارہ ہے، جسکا کسی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ روپچو کی عمومی ساکھ ترقی پسند نظریات کے حامل ادارے کی ہے۔روپچو کے مطابق انہوں نے فوری ٹویٹر فرانس کی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے...