Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

سیاست

امریکی معاشرہ بُری طرح منقسم اور تذبذب کا شکار: تازہ سروے کے مطابق صرف 16٪ شہری نظام سے مطمئن، رکن کانگریس اور صحافی بدنام ترین افراد بن گئے

امریکی معاشرہ بُری طرح منقسم اور تذبذب کا شکار: تازہ سروے کے مطابق صرف 16٪ شہری نظام سے مطمئن، رکن کانگریس اور صحافی بدنام ترین افراد بن گئے

سیاست
امریکی شہریوں کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ملک میں حالات روز بروز بگڑ رہے ہیں اور جمہوریت ملک کے لیے ناگزیر ہونے کے باوجود صحیح انداز میں کام نہیں کر رہی۔ امریکہ میں ہوئے ایک نئے عوامی سروے میں سامنے آیا ہے کہ صرف 16 فیصد شہریوں کے مطابق ملک میں جمہوریت ٹھیک سے کام کر رہی ہے، جبکہ دو تہائی افراد کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری تقسیم آئندہ پانچ سالوں میں مزید بڑھے گی یا موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔ سروے میں 54 فیصد امریکیوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو ابھی اچھے دن دیکھنے ہیں، اور ملک غلط سمت پر رواں ہے۔ سروے میں جماعتی وابستگی کے اثرات بھی نمایاں تھے اور ریپبلکن ملک کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ ناامید اور ڈیموکریٹ بنسبت پرامید تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں کیے سروے میں ڈیموکریٹ کے حامی زیادہ ناامید تھی، تاہم اب انتخابی فتح نے ان میں امید بڑھا دی ہے۔ ا...
میڈیا پر بندشوں کے ماحول کی نسبت کیا یوکرین کے شہریوں کے لیے بہتر نہیں کہ ملک روس میں ضم ہو جائے: یوکرینی صحافی کے سوال پر حکومت کا غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ

میڈیا پر بندشوں کے ماحول کی نسبت کیا یوکرین کے شہریوں کے لیے بہتر نہیں کہ ملک روس میں ضم ہو جائے: یوکرینی صحافی کے سوال پر حکومت کا غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ

سیاست
یوکرین کی حکومت نے ایک مقامی صحافی علیونا بیریزووسکایا پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمہ مقامی صحافی کے ریاست کے وجود پر سوال کے ردعمل پہ قائم کیا جائے گا۔ علیونا نے ملک میں حزب اختلاف کے ایک رہنما وکتر میدویدچک کے انٹرویو میں سوال اٹھایا تھا کہ (ملکی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے) کیا یہ یوکرین کے شہریوں کے لیے بہتر نہیں کہ ہم روس میں ضم ہو جائیں، اور یہ ہمارے لیے مشکل بھی نہ ہو گا۔ سوال پر بہت سے حلقوں، خصوصاً لبرل حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا جس پر حکومت نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی وکیل کا کہنا ہے کہ علیونا کے معاملے کے بارے میں معلومات جمع کیا جارہی ہیں، اور دیکھا جا رہا ہے کہ اس نے کیسے ملک کی پہچان اور خودمختاری پر سوال اٹھائے؟ اور اس پر کیا قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔ حکومتی ردعمل پر علیونا کا کہنا ہے کہ مغربی دباؤ میں حکومت ان پر غ...
برما میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے شروع

برما میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے شروع

سیاست
برما/میانمار کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ بروز اتوار ہزاروں کی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور جمہوری حکومت کو ختم کرنے والے فوجی سربراہ مِن آؤنگ ہلینگ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کچھ شہری زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی ہے۔ https://twitter.com/MoeCrit/status/1358314080029659137?s=20 یاد رہے کہ شروع ہونے والے مظاہروں کا شمار برما کی تاریخ کے بڑے مظاہروں میں کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2007 میں بھی اس نوعیت کے بڑے مظاہرے دیکھے گئے تھے۔ https://www.youtube.com/watch?v=7gyg4vWVzqc سب سے بڑا مظاہرہ سرحدی شہر مایاودی میں ہوا۔ جہاں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ رنگون میں ہونے والے مظاہرے بھی خطرناک صورتح...
ڈونلڈ ٹرمپ غیر متوقع طبیعت کے مالک ہیں، انہیں حساس معاملات کی پیش رفت سے آگاہی دینا خطرناک ہو گا: صدر جوبائیڈن

ڈونلڈ ٹرمپ غیر متوقع طبیعت کے مالک ہیں، انہیں حساس معاملات کی پیش رفت سے آگاہی دینا خطرناک ہو گا: صدر جوبائیڈن

سیاست
امریکی صدر جوبائیڈن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شبہے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو دیگر سابق صدور جیسی مراعات نہیں دی جانی چاہیے۔ صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی غیر متوقع طبیعت کے مالک ہیں، ان کو امریکی صدور کو حاصل حساس معلومات تک رسائی ملک کے لیے خطرناک ہے۔ سی بی ایس کے شو میں صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سابقہ صدر کو خفیہ معلومات کی رسائی دے گی، جس پر صدر نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نہیں دینی چاہیے، انہیں ایسی سہولت دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ جس شخصیت کے مالک ہیں کسی دن کسی کے سامنے حساس معلومات اگل دیں گے۔ جوبائیڈن نے کیپیٹل ہل پر دھاوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو ملک کی حساس معلومات تک رسائی کیسے دی جا سکتی ہے، جس کے حمائتی سرکاری عمارتوں ہر حملہ کریں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی خصوصی خبر میں کہا ہے کہ امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا کہ کسی ساب...
چین میں کورونا کے حوالے سے بی بی سی کی متعصب صحافت پر چین ناراض: معافی کا مطالبہ، برطانوی ادارے کی تردید

چین میں کورونا کے حوالے سے بی بی سی کی متعصب صحافت پر چین ناراض: معافی کا مطالبہ، برطانوی ادارے کی تردید

ابلاغ
بی بی سی نے چینی وزارت خارجہ کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے نے چین میں کورونا وباء سے متعلق غلط اور جھوٹی خبریں چلائیں۔ بی بی سی نے اپنی خصوصی وضاحت میں کہا کہ انکے دیے تمام اعدادوشمار درست تھے اور ادارہ اپنی خبروں کی توثیق کرتا ہے۔ https://twitter.com/BBCNewsPR/status/1357328882660179968?s=20 برطانوی نشریاتی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ بی بی سی عالمی سطح پر پسند کیا جانے والا ابلاغی ادارہ ہے، دنیا بھر میں ہفتہ وار 40 کروڑ سے زائد افراد اسکی خبروں کو پڑھتے اور اس پر یقین کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ چینی وزارت خارجہ نے بروز جمعرات میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ بی بی سی نے چین میں کورونا وباء کے حوالے سے غلط خبریں چلائیں اور ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی، وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی سے معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ واضح رہے کہ چینی ردعمل برطانوی محکمہ برائے ...
استنبول: جامعہ کے سربراہ کی تعیناتی پر معترض طلباء کا دفتر پر حملہ، صدر ایردوعان کا سخت ردعمل، طلباء کو دہشتگرد قرار دے دیا

استنبول: جامعہ کے سربراہ کی تعیناتی پر معترض طلباء کا دفتر پر حملہ، صدر ایردوعان کا سخت ردعمل، طلباء کو دہشتگرد قرار دے دیا

سیاست
ترک صدر رجب طیب ایردوعان نے استنبول کی ایک مقامی جامعہ کے طلبہ کو مظاہرہ کرنے پر دہشت گردوں سے تشبیہ دی ہے۔ طلبہ جامعہ کے سربراہ کی سیاسی تعیناتی کا جواز بنا کر گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے حالت احتجاج میں ہیں اور اس دوران انہوں نے سربراہ کے دفتر پر حملہ بھی کیا ہے، جس پر صدر نے اپنے ردعمل میں انہیں دہشت پھیلانے والے نوجوان قرار دیا ہے۔ صدر ایردوعان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے نوجوانوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے جو دہشت گرد گروہوں کے رکن ہوں، اور ملکی روایات اور ثقافت کا خیال نہیں رکھیں۔ ویڈیو خطاب میں صدر ایردوعان کا کہنا تھا کہ آپ طلباء ہیں یا دہشت گرد جو ادارے کے سربراہ کے دفتر پر حملے کرتے ہیں؟ صدر ایردوعان نے صدارتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے پروفیسر میلیح بولو کو جامعہ بوآزچی کا سربراہ مقرر کیا تھا، جس پر جامعہ کے کچھ طلبہ اور اساتذہ نے اعتراض کیا اور مظاہرے شروع کر دیے۔ مظاہرین ...
نیویارک: 9 سالہ بچی پر پولیس کا تشدد آنکھوں میں سرخ مرچ کا سپرے کر دیا، ویڈیو سامنے آنے پر شہریوں کا سخت ردعمل

نیویارک: 9 سالہ بچی پر پولیس کا تشدد آنکھوں میں سرخ مرچ کا سپرے کر دیا، ویڈیو سامنے آنے پر شہریوں کا سخت ردعمل

نظامت
نیو یارک پولیس کی جانب سے 9 سالہ بچی پر تشدد کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔ پولیس اہلکاروں کے کندھے پر لگے کیمرے میں ریکارڈ ہوئی ویڈیو میں کچھ پولیس افسران کو ایک بچی پر تشدد کرتے، دھمکاتے اور لال مرچ کا سپرے کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ https://youtu.be/M16D0Pn6Raw ویڈیو سامنے آںے پر انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس پر محکمے نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ https://twitter.com/DemondLMeeks/status/1355959583131529226?s=20 https://twitter.com/marylupienroc/status/1355612864531329027?s=20 پولیس کا اہنے جواز میں کہنا ہے کہ لڑکی خود کشی کرنا چاہتی تھی اور اپنی ماں کو بھی مارنا چاہتی تھی۔ سارے حادثے کے بعد لڑکی کو طبی امداد دی گئی اور والد کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا۔ تاہم ویڈیو سامنے آنے پر اسکی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔...
میانمار میں جنرل مِن آؤنگ نے منتخب حکومت کا تحتہ الٹ دیا: آنگ سوچی سمیت تمام سیاسی قیادت زیرحراست، ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ

میانمار میں جنرل مِن آؤنگ نے منتخب حکومت کا تحتہ الٹ دیا: آنگ سوچی سمیت تمام سیاسی قیادت زیرحراست، ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ

سیاست
میانمار میں فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری نشریاتی اداروں کے مطابق فوج نے آنگ سان سوچی کی حکومت کو مبینہ انتخابی دھاندلی کے الزامات پر برطرف کرتے ہوئے ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو حراست میں لے لیا ہے اور ایک سال کے لیے ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے۔ میانمار کی فوج کے ٹی وی پر شائع اعلان کے تحت سپہ سالار مِن آؤنگ آئندہ ایک سال کے لیے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے۔ واضح رہے کہ میانمار کے آئین کے تحت مشکل حالات میں فوج ملک میں ہنگامی حالات نافذ کر سکتی ہے۔ میانمار میں نومبر 2020 میں عام انتخابات ہوئے تھے جس کے نتائج پر عسکری حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا، سوچی حکومت معاملے کو نظام پر چھوڑا اور الیکشن کمیشن کو تمام حلقوں کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ انتخابات میں سوچی کی جماعت 476 میں سے 396 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ فوج کی حمایت یافتہ جماعت کا کہنا تھا کہ انہ...
صومالیہ: کار بم دھماکے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

صومالیہ: کار بم دھماکے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

سیاست
صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں ایک سے زائد بم دھماکے ہوئے ہیں۔ دھماکے شہر کے مرکزی علاقے میں قائم ایک معروف ہوٹل کے قریب ہوئے جس کے بعد عمارت سے بلا تعطل گولیاں چلنے کی آوازیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔ https://twitter.com/AbdulBillowAli/status/1355879714934681606?s=20
فرانس میں بنیادی حقوق کی پامالی کا نیا قانون واپس لینے کا وعدہ وفا نہ ہو سکا: پولیس اور مظاہرین ایک بار پھر آمنے سامنے

فرانس میں بنیادی حقوق کی پامالی کا نیا قانون واپس لینے کا وعدہ وفا نہ ہو سکا: پولیس اور مظاہرین ایک بار پھر آمنے سامنے

سیاست
فرانس میں ایک بار پھر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ مظاہروں کا یہ نیا سلسلہ پہلے سے وابستہ ہی ہے جس میں شہری پولیس کے تشدد کی ویڈیو اور تصاویر نشر کرنے والے شہریوں کے خلاف کارروائی کے قانون پر احتجاج کر رہے ہیں۔ https://twitter.com/anon_candanga/status/1355545491199688706?s=20 پیرس میں ہوئے ایک احتجاج میں پولیس اور مظاہرین میں خونی جھڑپیں ہوئیں جس میں متعدد شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ https://twitter.com/Gerrrty/status/1355523022124437504?s=20 https://twitter.com/KMedefer/status/1355536590412636165?s=20 یاد رہے کہ قانون کے تحت پولیس کے تشدد کی صرف تصاویر اور ویڈیو بنانے اور شائع کرنے والے کو ایک سال قید اور بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے قانون میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال کوئی پیش نہ ہونے پر مظاہرین دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ https://you...

Contact Us