Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

رہن سہن

امریکہ: دماغی مغز کھانے والے جان لیوا امیبا کے ملک بھر میں پھیلنے کا انکشاف – کورونا وباء کے دوران امیبا کا شکار بڑھتے مریضوں نے محکمہ صحت پر دباؤ بڑھا دیا

امریکہ: دماغی مغز کھانے والے جان لیوا امیبا کے ملک بھر میں پھیلنے کا انکشاف – کورونا وباء کے دوران امیبا کا شکار بڑھتے مریضوں نے محکمہ صحت پر دباؤ بڑھا دیا

طب
امریکہ میں انسانی دماغی مغز کھانے والے امیبے کے پھیلاؤ نے محکمہ صحت کے لیے نئے مسائل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ امیبا جنوب سے شمال کی طرف میٹھے پانی کے ذخائر کے ذریعے تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے باعث محکمہ صحت پر کورونا وباء کے دوران صحت کے شعبے میں مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق نائیگلیریا فاؤلیری نامی یک خلوی امیبا کا پھیلاؤ ماضی قریب میں ہی شمال کی طرف دیکھا گیا ہے، اس سے قبل اسکا پھیلاؤ ملک کے جنوبی علاقوں میں تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ امیبا کے پھیلاؤ میں پچھلے چار عشروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق اگرچہ گزشتہ ایک دہائی میں فاؤلیری امیبا سے متاثرہ مریضوں کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا، اور یہ ایک خاص حد میں ہے، تاہم اس کے علاقائی پھیلاؤ نے طبی ماہرین کو فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ نائیگلریا فاؤلیری امیبا خطرناک دماغی انفیکشن...
لندن میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ: ناظم اعلیٰ صادق خان نے تیسرے درجے کی پابندیوں کی تنبیہ جاری کر دی

لندن میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ: ناظم اعلیٰ صادق خان نے تیسرے درجے کی پابندیوں کی تنبیہ جاری کر دی

رہن سہن
لندن میں کورونا مریضوں کے اضافے کے باعث شہری انتظامیہ نے سختی کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ نوے لاکھ آبادی والے شہر میں یومیہ اوسطاً ڈھائی ہزار افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ صورتحال پر لندن کے ناظم اعلیٰ صادق خان نے عوام سے کورونا سے متعلق قوانین کی پابندی کی درخواست کی ہے۔ صادق خان نے لندن کے 90 لاکھ افراد سے خصوصی ٹویٹ میں کہا ہے کہ سردیاں ابھی جاری ہیں، ہم میں سے کوئی نہیں چاہے گا کہ کرسمس کے دوران تیسرے درجے کی تالہ بندی کی سختیوں کا سامنا کرے، براہ کرم قوانین کا پاس رکھیں، ہماری صحت کا انحصارانہی اصولوں پر ہے۔ https://twitter.com/SadiqKhan/status/1336620584990629889?s=20 کرسمس کے باعث تالہ بندی میں معمولی نرمی کی گئی ہے لیکن متاثریں میں اچانک اضافے کے باعث اس میں دوبارہ سختی کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف ملک میں کورونا ویکسین کا آغاز ہو گیا ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق 2020 کے اختتام تک ب...
ہندوستان: پراسرار مرض پھوٹ پڑا، ایک شخص ہلاک سینکڑوں بیمار، ملک بھر سے طبی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے

ہندوستان: پراسرار مرض پھوٹ پڑا، ایک شخص ہلاک سینکڑوں بیمار، ملک بھر سے طبی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے

رہن سہن
ہندوستانی ریاست آندرا پردیش کے شہر ایلورو میں پراسرار مرض پھوٹ پڑا ہے، مقامی انتظامیہ کے مطابق مرض میں مبتلا ہوکراب تک ایک شخص ہلاک اور سیکنڑوں بیمار ہو گئے ہیں۔ طبی عملے کے مطابق اب تک مرض کی تشخیص نہیں ہو سکی ہے۔ مرض میں مبتلا ایک شخص کی کل ہلاکت ہوئی ہے، جس کی عمر 45 سال بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص میں متلی اور مرگی کی علامات تھیں۔ جس کے بعد شہر میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ مرض میں مبتلا افراد کو چکر، سر درد، قہ اور مرگی کی علامات ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک 300 سے زائد افراد اسپتالوں میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً آدھے شفاء یاب ہو کر جا چکے ہیں، لیکن طبی عملے کو اب تک مرض کی تشخیص میں مشکل ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق مریضوں کا سی ٹی اسکین اور دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں لیکن کچھ بھی غیر معمولی دریافت نہیں ہوا۔ مریضوں کا کووڈ-19 کا ٹیسٹ بھی منفی آیا ہے، جب...
کووڈ-19 کی ویکسین لگوانا گناہ نہیں: برطانوی کیتھولک کلیسے کا ویکسین کی حمایت میں بیان جاری

کووڈ-19 کی ویکسین لگوانا گناہ نہیں: برطانوی کیتھولک کلیسے کا ویکسین کی حمایت میں بیان جاری

رہن سہن
برطانوی کیتھولک کلیسے نے عوام میں ابھرنے والی ایسی تمام افواہوں کی تردید کی ہے جن میں کووڈ-19 ویکسین کو عیسائیت کی مذہبی تعلیمات کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ کیتھولک پادری کی جانب سے بروز جمعرات جاری کی جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کلیسا ویکسین کی پوری حمایت کرتا ہے۔ فتوے میں کلیسے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وباء کی ہلاکت خیزیوں کو ہم دیکھ چکے ہیں، اور یہ جواز ویکسین لگوانے پر گناہ نہ ہونے کے لیے کافی ہے۔ برطانوی سماجی میڈیا پر کچھ عرصے سے یہ افواہیں سرگرم ہیں کہ جامعہ آکسفورڈ اور ملحقہ تحقیقی اداروں نے ویکسین بنانے میں اسقاط حمل سے ضائع کردہ بچوں کے خلیوں کو استعمال کیا ہے۔ کیتھولک پادری نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ دوا بنانے کے مراحل اور چاہتے ہوئے کوئی گناہ کرنے میں اخلاقی فرق ہوتا ہے۔ ہم پر پہلے یہ فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بیماری، اس کے خوف اور موت سے بچائیں، ...
ایچ آئی وی کے خلاف بڑی کامیابی: مدافعتی  خلیوں میں جینیاتی تبدیلی سے محققین کا زیادہ مؤثر ویکسین اور دوا بنانے کا دعویٰ

ایچ آئی وی کے خلاف بڑی کامیابی: مدافعتی خلیوں میں جینیاتی تبدیلی سے محققین کا زیادہ مؤثر ویکسین اور دوا بنانے کا دعویٰ

طب
محققین ویکسین بنانے کے نئے طریقے کے ذریعے ایچ آئی وی کے خلاف مصنوعی قوت مدافعت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے جسم سے بیمار خلیوں میں جنیاتی تبدیلی کر کے نئی دوا تیار کی ہے، جسے ایچ آئی وی کے خلاف زیادہ مؤثر اور دیر پا پایا گیا ہے۔ چوہوں پر کیے گئے تجربے میں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں، جس سے محققین پرامید ہیں کہ وہ جلد نہ صرف پہلے سے بہتر ویکسین بلکہ بیماری کے خلاف مؤثر دوا تیار کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کامیابی مدافعاتی نظام کے بی خلیے کے جین کو نئے سرے سے ترتیب دے کر حاصل کی ہے۔ سی آر آئی ایس پی آر نامی تکنیک کے ذریعے مریضوں میں ایچ آئی وی کے خلاف اینٹی باڈی پیدا کی گئی ہے جو چند نایاب مریضوں میں پائی گئی تھی۔ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جینیاتی ترتیب بدلنے سے نہ صرف ویکسین کی صلاحیت بڑھی ہے، ب...
کووڈ-19 سے متاثرہ شخص 6 ماہ تک دورباہ متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے: نئی تحقیق

کووڈ-19 سے متاثرہ شخص 6 ماہ تک دورباہ متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے: نئی تحقیق

طب
جامعہ آکسفورڈ کی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کووڈ-19 کے شکار افراد صحت یاب ہونے کے بعد کم از کم اگلے 6 ماہ تک دوبارہ حملے سے محفوظ رہتے ہیں، جس کی وجہ جسم میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کا پیدا ہو جانا بتایا جا رہا ہے، اور یہ کم از کم 6 ماہ تک کارگر رہتی ہیں۔ کووڈ-19وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے کے حوالے سے تحقیق میں صحت کے شعبے سے وابستہ 12 ہزار افراد نے حصہ لیا، تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 سے متاثرہ افراد آئندہ 6 ماہ کے لیے وائرس سے محفوظ رہتے ہیں، اور یہ ایک بہترین احساس ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی زیر مطالعہ افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بیماری سے متعلق زیادہ سے زیادہ اور درست معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ نومبر میں کی جانے والی ایک اور تحقیق میں سامنے آیا تھا کہ جب تک جسم میں اینٹی باڈیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوتی ہے تواس دوران ٹی-سیل کی مدد سے قوت مدافعت بھ...
کووڈ-19 اینٹی جن ٹیسٹ غیر مؤثر قرار: محققین کے مطابق ٹیسٹ انتہائی ضرورت میں شرائط کو پوراکرتے ہوئے کروایا جائے ورنہ پی سی آر کو ترجیح دی جائے

کووڈ-19 اینٹی جن ٹیسٹ غیر مؤثر قرار: محققین کے مطابق ٹیسٹ انتہائی ضرورت میں شرائط کو پوراکرتے ہوئے کروایا جائے ورنہ پی سی آر کو ترجیح دی جائے

طب
کووڈ-19 اینٹی جن ٹیسٹ پرکیے جانے والے مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ اینٹی جن ٹیسٹ ہمیشہ درست نہیں آتا، اور ایسا خصوصاً ان افراد کے ٹیسٹ میں ہوتا ہے جن میں وائرس کے حملے کے دوران کوئی علامات سامنے نہیں آتیں، محققین نے تجویز کیا ہے کہ اینٹی جن ٹیسٹ علامات کے ساتھ بیمار ہونے کے پانچ روز بعد یا علامات کے بغیر کووڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے سات روز بعد کیا جانا چاہیے۔ محققین کا کہنا ہے کہ لوگ چند منٹوں میں اینٹی جن کا نتیجہ سامنے آجانے کے باعث اسے پی سی آر کی نسبت ترجیح دیتے ہیں، لیکن پی سی آر ٹیسٹ کی نسبت اینٹی جن ٹیسٹ کے درست ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، اور اس سے تفصیلات کا بھی پتہ نہیں چل پاتا۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق اینٹی جن ٹیسٹ صرف تب کیا جانا چاہیے اگر مریض میں حساسیت 80 فیصد ہو یا پی سی آر کی سہولت موجود نہ ہو، اور تفصیلات کے بغیر ٹیسٹ کرنا مقصود ہو۔ عالمی ادارہ صحت کی...
برطانیہ: حکومت سماجی میڈیا پر کورونا ویکسین کے خلاف بحث روکنے میں ناکامی پر کمپنیوں کو جرمانے کرے، لیبر پارٹی

برطانیہ: حکومت سماجی میڈیا پر کورونا ویکسین کے خلاف بحث روکنے میں ناکامی پر کمپنیوں کو جرمانے کرے، لیبر پارٹی

ابلاغ, طب
برطانیہ کی لیبرپارٹی نے کووڈ19 کی ویکسین کے خلاف آن لائن بحث کو روکنے کے لیے اسمبلی میں قانونی سازی کی سفارش کر دی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ سماجی میڈیا کی کمپنیاں غلط معلومات کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ شیڈو وزیر جو سٹیون نے ٹویٹ میں کہا کہ حکومت کو ویکسین کے خلاف پراپیگندا روکنے کے لیے کمپنیوں کو پابند کرنا ہو گا۔ https://twitter.com/JoStevensLabour/status/1327963294079086593?s=20 اس کے علاوہ جو سٹیون اور لیبر جماعت کے سیکرٹری برائے صحت جوناتھن ایشورتھ نے ایک مشترکہ خط میں استدعا کی ہے کہ حکومت ویکسین کے خلاف پراپیگنڈا کو روکنے میں ناکام سوشل میڈیا ویب سائٹوں کو جرمانے کرے اور انکے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی کرے۔ لیبر نمائندگان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آن لائن دنیا میں ویکسین کے خلاف بے وقوفانہ بحث کو روکنے کے لیے متحرک ہونا ہو گا، حکومت عوام میں صحت سے متعلق آگ...
تحقیقات میں کورونا کے چین سے قبل اٹلی، اسپین اور امریکہ میں سامنے آنے کے انکشافات

تحقیقات میں کورونا کے چین سے قبل اٹلی، اسپین اور امریکہ میں سامنے آنے کے انکشافات

طب, عالمی
نئی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس چین سے بھی پہلے اٹلی، اسپین اور امریکہ میں موجود تھا، اور اس سے لوگ بیمار بھی ہو رہے تھے، محققین کے مطابق ایک نئی تحقیق کے مطابق وائرس ستمبر 2019 سے اٹلی میں باقائدہ متحرک تھا، جس کے مقابلے میں لوگوں کے جسم میں اینٹی باڈیز دریافت ہوئی ہیں۔ انکشاف سے وائرس کے ماخذ اور وباء کے دورانیے کے بارے میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تازہ انکشکاف کی تفصیل کے مطابق دو عالمی جامعات کی جانب سے کینسر پر تحقیق کے لیے اٹلی میں ستمبر 2019 سے مارچ 2020 کے دوران 959 افراد کے خون کے نمونے لیے گئے، سائنسدانوں کو ستمبر 2019 میں لیے گئے نمونوں میں بھی کورونا وائرس کے موجود ہونے کے آثار ملے ہیں۔ محققین کے مطابق انہیں 111 افراد کے خون کے نمونوں میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیزملی ہیں تاہم ان میں سے بیشتر مریض کسی بھی قسم کی بظاہر علامات کے بغیر تھے، ڈیٹا کے مطابق صرف 11 افراد نے فلو...
کورونا وائرس کے بچوں کو متاثر نہ کر پانے کی وجہ دریافت: محققین علاج کیلئے نیا طریقے اپنانے کا سوچنے لگے

کورونا وائرس کے بچوں کو متاثر نہ کر پانے کی وجہ دریافت: محققین علاج کیلئے نیا طریقے اپنانے کا سوچنے لگے

طب
محققین نے کووڈ19 کے بچوں کو متاثر نہ کرپانے کی وجہ ڈھونڈ نکالی ہے، اور اس بنیاد پر ان کا خیال ہے کہ وباء سے نمٹنے کا نیا طریقہ بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بچوں میں ایک خاص درآور پروٹین/ریسیپٹر پروٹین اور عمر کے ساتھ بڑنے والی اینزائم کی مقدار بڑوں کی نسبت کم ہوتی ہے، جوسارس کووڈ2 وائرس کو پھیپھڑوں میں داخل ہونے میں سہولت دیتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ وہ حیران تھے کہ وائرس نومولود یا کم عمر بچوں کو کیوں متاثر نہیں کر پاتا، اور اگر کرتا بھی ہے تو ان میں سنجیدہ حد تک علامات سامنے نہیں آتیں، اس سوال کے جواب کی تلاش میں انہوں نے وائرس کے پھیپھڑوں میں داخل ہونے کے عمل کا مطالعہ کیا۔ محققین نے پایا کہ جب وائرس پھیپھڑوں میں داخل ہوتا ہے تو اوپر ذکر کیے گئے پروٹین کی ابھری ہوئی کنڈیاں کورونا وائرس کے تاج نما ابھاروں کو اپنے اندر پھنسا لیتی ہیں، پروٹین کی یہ کنڈیاں خصوصی...

Contact Us