Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

عالمی

عالمی افق پر ایشیا کا بڑھتا اثرورسوخ و ترقی: صدر پوتن نے اسکولوں میں چینی سمیت دیگر ایشیائی زبانیں سکھانے کا حکم دے دیا

عالمی افق پر ایشیا کا بڑھتا اثرورسوخ و ترقی: صدر پوتن نے اسکولوں میں چینی سمیت دیگر ایشیائی زبانیں سکھانے کا حکم دے دیا

عالمی
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے براعظم ایشیا کی عالمی سیاست میں اہمیت و وقار کو بڑھتا دیکھ کر ملک میں بڑی ایشیائی زبانوں خصوصاً چینی زبان کو اسکولوں میں سکھانے کے منصوبے شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ملک میں مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے والے 30 ذہین طلباء سے گفتگو میں صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ایشیائی ملکوں میں معاشی ترقی کی رفتار اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں سیاسی قوت کا مرکز ایشیا بن رہا ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ ہم حالات حاضرہ کے مطابق اپنی پالیسیوں کو مرتب کریں۔ اور روسی نوجوان چینی اور دیگر ایشیائی زبانوں پر عبور حاصل کریں۔ صدر نے اس حوالے سے فوری اقدامات کرنے اور اساتذہ بھرتی کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ صدر پوتن نے نوجوان طلباء سے گفتگو میں کہا کہ سویت زمانے میں ایشیائی ملکوں سے روسی تعلقات بہترین تھے اور تمام بڑی ایشیائی زبانوں میں ڈگریاں بھی دی جاتی تھیں، اس کا روسی معیشت ا...
اقوام متحدہ: مالی کے خلاف پابندیوں کی قرارداد روس نے ویٹو کر دی

اقوام متحدہ: مالی کے خلاف پابندیوں کی قرارداد روس نے ویٹو کر دی

عالمی عدل و انصاف
روس نے افریقی ملک مالی کے خلاف معاشی پابندیوں کی قرارداد ویٹو کر دی ہے۔ روس کے اس اقدام کے باعث فرانس کی مالی پر معاشی پابندیوں کی میعاد میں اضافے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے اور اب 31 آگست کے بعد مالی عالمی پابندیوں کے چنگل سے نکل جائے گا۔ دوسری جانب مالی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روسی نجی عسکری کمپنی ویگنر کے ساتھ تعاون بڑھا دیا ہے، مالی کا کہنا ہے کہ روسی کمپنی ملک امن کو یقینی بنانے میں زیادہ مددگار ثابت ہوئی ہے۔  جبکہ مغربی ممالک نے روسی کمپنی پر شہریوں کو ڈرانے اور لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ واضح رہے کہ فرانس نے پہلے ہی مالی سے اپنی افواج نکال لی تھیں جبکہ مالی سرکار کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن دستوں کو بھی دسمبر تک نکلنے کے لیے حکم دے دیا گیا ہے۔ 15000 سے زائد فوجیوں پر مبنی دستہ 31 دسمبر تک مالی سے نکل جائے گا۔...
تائیوان کو دوسرا یوکرین بننے سے اجتناب کرنا چاہیے: ارب پتی صدارتی امیدوار ٹیری گؤ

تائیوان کو دوسرا یوکرین بننے سے اجتناب کرنا چاہیے: ارب پتی صدارتی امیدوار ٹیری گؤ

عالمی
تائیوان کی معروف الیکٹرانک کمپنی فاکسکون کے ارب پتی مالک و بانی ٹیری گؤ کی جانب سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ ایپل کمپنی کی سب سے بڑے سپلائر کمپنی کے مالک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ تائیوان کو یوکرین بنتا نہیں دیکھنا چاہتے اور چین کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں۔ اپنے انتخابی اعلان میں گؤ کا مزید کہنا تھا کہ تائیوان کو یوکرین نہیں بننے دیں گے، شہری ان کا ساتھ دیں تو وہ آئندہ پچاس سال کے لیے خلیج تائیوان میں امن کا معاہدہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور کشیدگی کے بجائے باہمی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں اعتماد بڑھانے کی پالیسی پر کام کریں گے۔ واضح رہے کہ تائیوان اور چین کے مابین 2016 میں تسائی لینگ وین کے اقتدار میں آنے سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اگر اب گؤ حزب اختلاف کو متحد کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ ووٹ تقسیم کر نے اور موجودہ نائب صدر کے کامیاب ...
مغربی ممالک برکس کا رکن نہیں بن سکتے: روس

مغربی ممالک برکس کا رکن نہیں بن سکتے: روس

عالمی
دنیا میں ابھرتے ایک نئے بین الاقوامی اتحاد برکس کی جانب سے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے اہم پالیسی وضع کر دی گئی ہے۔ اتحاد کے اہم اور بنیادی رکن روسکے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے پالیسی اعلان میں کہا ہے کہ برکس میں ایسے کسی ملک کو رکنیت نہیں دی جائے گی جو رکن ممالک پہ مالی یا کسی دوسری پابندیاں لگائے گا یا اس میں شامل ہو گا۔ جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ میں سالانہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اعلیٰ عہدے دار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا ملک برکس کا رکن نہیں بن سکے گا جو کسی بھی سطح پر رکن ممالک پر غیر قانونی مالی و سیاسی پابندیاں لگانے میں ملوث ہو گا۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اجلاس میں شامل ہونے اور رکنیت کے لیے درخواست دینے والے تما نئے6 ممالک ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس پالیسی سے اتفاق کیا ہے۔ روس نائب وزیر خ...
برکس کا مقصد منصفانہ کثیر القطبی دنیا کا قیام ہے: روسی وزیر خارجہ کا آئندہ اجلاس سے قبل اہم بیان، اتحاد کی وسعت کے لیے بھی مثبت اشارے دے دیے

برکس کا مقصد منصفانہ کثیر القطبی دنیا کا قیام ہے: روسی وزیر خارجہ کا آئندہ اجلاس سے قبل اہم بیان، اتحاد کی وسعت کے لیے بھی مثبت اشارے دے دیے

عالمی عدل و انصاف
روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروو نے دنیا پر زور دیا ہے کہ مغربی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے ان کی حالیہ کوششوں کا الٹا اثر ہو رہا ہے، لہٰذا دنیا کی اکثریتی آبادی کو تمام مغربی اقدامات کو مسترد کرنا چاہیے اور مغرب کی اقلیت کی جانب سے دنیا کی اکثریتی آبادی کے وسائل کا استحصال روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ روسی اعلیٰ عہدے دار کا کہنا تھا کہ دنیا میں طاقت کے محور بدل رہے ہیں، اور دنیا یک قطبی سے بہتر اور منصفانہ کثیر قطبی قوت میں بدل رہی ہے۔ جوہانسبرگ جنوبی افریقہ میں آئندہ برکس کے اجلاس سے پہلے اپنے اس تحریری بیان میں سرگئی لاوروو کا کہنا تھا کہ 5 ملکی بین الاقوامی اتحاد کثیر القطب دنیا کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت قوت کا چہرہ ہے جو جنوب اور مشرق کے اتحاد سے دنیا میں توازن لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا مغربی اتحادی ممالک کی سیاسی و مالی اشرافیہ سے تنگ آچکی...
مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی: روس کے ساتھ تعاون اور تجارت پر ترکی کو امریکہ کی دھمکی

مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی: روس کے ساتھ تعاون اور تجارت پر ترکی کو امریکہ کی دھمکی

عالمی
امریکہ نے ترکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ترکی نے روس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔ معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اعلیٰ امریکی عہدے داروں کے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کی ایک مبینہ کمپنی امریکی پابندیوں کے باوجود روس کے ساتھ کاروباری شراکت میں اس کی مدد کر رہی ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم امریکی حکام نے ترک حکام اور کمپنی کے مالکان کو تنبیہ جاری کر دی ہے کہ اگر تحقیقات میں ثابت ہو گیا کہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو اس پہ سزا دی جائے گی۔ ترکی پر الزام ہے کہ وہ مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اور خصوصاً روسی کمپنیوں کو عالمی تجارت میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس حوالے سے روسی تیل کے بحری جہازوں کو راستہ فراہم کرنا، مارکیٹ تک جعلی ناموں سے رسائی دینا اور برقی آلات و ہتھیاروں کی ...
امریکہ نے جرائم پیشہ افراد اور شہریوں کے چندے میں دیے ہتھیار بھی یوکرین بھیجنا شروع کر دیے

امریکہ نے جرائم پیشہ افراد اور شہریوں کے چندے میں دیے ہتھیار بھی یوکرین بھیجنا شروع کر دیے

اردو نیوز, عالمی
یوکرینی حکام نے امریکہ کی جانب سے چھوٹے خودکار اسلحے کی ترسیل موصول کی ہے جس میں مبینہ طور پر جرائم پیشہ افراد سے چھینے گئے ہتھیاروں کے علاوہ شہریوں کی جانب سے رضاکارانہ طور پر جمع کرائے گئے ہتھیار شامل ہیں۔ اس موقع پر یوکرینی حکام نے امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ہتھیاروں کا جرائم میں استعمال ہونے کے بجائے بہترین استعمال ہے۔ یوکرین نے ہتھیاروں کی تعداد یا اقسام کے حوالے سے تفصیل نہیں بتائی البتہ کچھ ذرائع کے مطابق حالیہ تعداد ۱۰۰ سے زائد چھوٹے ہتھیاروں اور ڈیڑھ لاجھ سے زائد گولیوں پر مشتمل ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں یوکرین کے لیے ہتھیار جمع کرنے کی باقائدہ مہم چلائی جا رہی ہے اور اس کے لیے شہری اقر مقامی تنظیمیں باقائدہ چندہ بھی اکٹھا کر رہے ہیں۔ میامی کی پولیس نے اس حوالے سے جرائم پیشہ افراد سے چھینی گئی بندوقیں بھی چندے میں کروائی ہیں جن کی پہلی کھیپ یوکرین بھیج د...
معمر قذافی کو مارنا مغرب کی بڑی غلطی تھی، معمر قذافی کا لیبیا حالیہ لیبیا سے بہتر تھا: اطالوی اعلیٰ حکام

معمر قذافی کو مارنا مغرب کی بڑی غلطی تھی، معمر قذافی کا لیبیا حالیہ لیبیا سے بہتر تھا: اطالوی اعلیٰ حکام

عالمی
اطالوی وزیر خارجہ اور نائب وزیرخارجہ نے لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے قتل کو مغرب کی بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اہم مسلم افریقی ملک لیبیا کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اعلیٰ اطالوی قیادت کا کہنا تھا کہ معمر قذافی کو مار کر مغرب نے بہت بڑی غلطی کی، معمر قذافی کے بعد کا لیبیا خلفشار اور تشدد کا مدکز بن گیا ہے۔ اٹلی کے شہر تسکھنی میں ایک تقریب سے خطاب میں دونوں اعلیٰ قیادتوں نے کہا کہ قذافی کے دور کا لیبیا حالیہ دور سے کئی درجے بہتر تھا۔ معمر قذافی شاید ایک اچھے جمہوری رہنما نہ تھے تاہم ان کے بعد کی ملکی صورتحال بدتر ہے۔ اٹلی کی معمر قذافی کے ساتھ ہجرت کے حوالے سے ایک پالیسی طے تھی اور ہم غیرقانونی انسانی سمگلنگ کو کسی نا کسی طرح منظم کرنے میں کامیاب تھے تاہم اب صوتحال ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ واضح رہے کہ نیٹو نے 2011 میں معمر قذافی کا تختہ الٹ دیا تھا اور انہیں ایک جتھے ...
برطانیہ کو ایران میں سابق حکومت کا تختہ الٹانے کی غلطی کا اعتراف کر کے، حالیہ حزب اختلاف کی مدد کرنی  چاہیے: سابق برطانوی سیکرٹری خارجہ

برطانیہ کو ایران میں سابق حکومت کا تختہ الٹانے کی غلطی کا اعتراف کر کے، حالیہ حزب اختلاف کی مدد کرنی چاہیے: سابق برطانوی سیکرٹری خارجہ

عالمی
برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ اوون نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ 1953 میں ایرانی منتخب حکومت کو برطرف کرنے میں برطانیہ کا بھی کردار تھا۔ 1977 سے 1979 تک یورپی ملک کے سیکرٹری خارجہ رہنے والے اعلیٰ برطانوی عہدےدار کا ماننا ہے کہ اس اعتراف سے برطانیہ ایران میں حکومت مخالف تحریک اور اصلاحات کی طلب کرنے والے گروہ کی مدد کر سکتا ہے۔ ڈیوڈ اوون نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ اس وقت کا ہمارا کردار منفی تھا اور ہم ایران کے ایک جمہوری ریاست بننے میں رکاوٹ بنے۔ اور اب اس غلطی کا اعتراف کر کے ہم ایران میں مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ دس سال قبل امریکہ نے سابق حکومتی دستاویزات (ڈی کلاسیفائیڈ) عیاں کر کے اس بات کا اعتراف کر لیا تھا کہ ایران میں محمد مصدق کی حکومت کو برطرف کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ ن...
صدر پوتن کی مصر کو بھاری سرمایہ کاری کی پیشکش: مصر نے یوکرین کو ہتھیار بیچنے سے انکار کر دیا

صدر پوتن کی مصر کو بھاری سرمایہ کاری کی پیشکش: مصر نے یوکرین کو ہتھیار بیچنے سے انکار کر دیا

عالمی
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ مصر نے یوکرین تنازعے میں شامل نہ ہونے کا عندیا دے دیا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے مصری حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی مسلسل درخواست کے باوجود عرب ملک نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے۔ اخبار کے مطابق مصر سے ٹینک شکن میزائل اور فضائی دفاعی نظام کا مطالبہ کیا جا رہا اور یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری تھا تاہم مصر نے مشاورت کے بہانے وقت مانگتے ہوئے بالآخر فراہمی سے انکار کر دیا ہے۔ اخبار نے امریکی انتظامیہ سے اس حوالے سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ مصر نے دوٹوک نہ نہیں کی البتہ ایسا کوئی ارادہ نہ ہونے کی رائے کا اظہار ضرور کیا ہے۔ البتہ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تاحال پر امید ہیں کہ مصر ہمارا اتحادی ہے اور اس حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کہ فراہمی یوکرین کے لیے انتہائی اہم ہے، اگر واشنگٹن یوکرین کو ...

Contact Us