بدھ, جنوری 27 Live
Shadow

طب

فضائی آلودگی سانس کے علاوہ بینائی کے مسائل کی بڑی وجہ بن رہی ہے، 2040 تک 30 کروڑ افراد فضائی آلودگی کے باعث بینائی کھو سکتے ہیں: تحقیق

فضائی آلودگی سانس کے علاوہ بینائی کے مسائل کی بڑی وجہ بن رہی ہے، 2040 تک 30 کروڑ افراد فضائی آلودگی کے باعث بینائی کھو سکتے ہیں: تحقیق

طب
ایک نئی تحقیق میں ان مفروضات کی توثیق ہوئی ہے کہ صنعتی ممالک میں فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں کی بینائی مستقل طور پر ضائع ہو سکتی ہے۔ایک لاکھ پندرہ ہزار افراد پر کی گئی تحقیق کو ایک معروف تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا ہے، جس کے مطابق ماضی قریب میں بینائی کھو دینے والے افراد میں تقریباً 15 سال قبل فضائی آلودگی کے باعث معمولی مسائل کا آغاز ہوا تھا، تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ مسائل میں بڑھتی عمر کے علاوہ ہوا میں موجود خصوصی آلودگی کے ذرات کا بڑا کردار ہے۔اس کے علاوہ آنکھوں میں آلودگی والے ذرات کی موجودگی میں خون کی گردش کے بڑھنے اور کم ہونے سے بھی بینائی پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔تحقیق سے محققین نے نتائج اخذ کیے ہیں کہ فضائی آلودگی آنکھوں کے مسائل میں بڑی وجہ بن رہی ہے اور 2040 تک دنیا میں 30 کروڑ افراد اس سے متاثر ہوں گے۔محققین کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی آلودگی، فضاء میں نائیٹرس آ...
ہسپانیہ: ملازمت سے نکالنے پر مرسڈیز کے سابق ملازم نے فیکٹری میں گھس کر کروڑوں ڈالر کی گاڑیاں کباڑ بنا دیں

ہسپانیہ: ملازمت سے نکالنے پر مرسڈیز کے سابق ملازم نے فیکٹری میں گھس کر کروڑوں ڈالر کی گاڑیاں کباڑ بنا دیں

طب
ہسپانیہ میں مرسڈیز کمپنی کے پرانے ملازم نے فیکٹری میں گھس کر 50 سے زائد گاڑیوں کو کباڑ میں بدل دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق سابق ملازم فیکٹری میں گھسا اور بلڈوزر پر سوار ہو کر گیراج میں کھڑی گاڑیوں پر چڑھ دوڑا۔https://twitter.com/alekssef/status/1345302615752630272?s=20اطلاعات کے مطابق ملازم نے سکیورٹی عملے کے روکنے پر بھی توڑ پھوڑ نہ روکی تاہم ہوا میں گولی چلا کر دھمکی دینے پر ملازم رک گیا اور عملے نے پولیس کو بلا کر اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔لیکن اس دوران حملہ آور 50 سے زائد نئی گاڑیوں کو کباڑ کے ڈھیر میں بدل چکا تھا۔پولیس کے مطابق ملازم کو 4 سال قبل فیکٹری سے غیر موزوں طریقے سے نکلانے پر رنج تھا اور اس نے ساری توڑ پھوڑ بدلہ لینے کی غرض سے کی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرسڈیز کے 38 سالہ سابق ملازم نے کمپنی کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے تاہم مجموعی نقصان کا تخمی...
قابض صیہونی ریاست میں کورونا ویکسین لگوانے کے باوجود سینکڑوں افراد کووڈ-19 کا شکار، 4 کی ویکسین لگواتے ہی موت واقع

قابض صیہونی ریاست میں کورونا ویکسین لگوانے کے باوجود سینکڑوں افراد کووڈ-19 کا شکار، 4 کی ویکسین لگواتے ہی موت واقع

طب
مقبوضہ فلسطین میں فائزر کمپنی کی کورونا ویکسین لگانے کے باوجود سینکڑوں صیہونی شہری کووڈ-19 کا شکار ہو گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ویکسین لگوانے کے باوجود اب تک 240 شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کو مدافعت پیدا کرنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے، ممکنہ طور پر متاثرہ افراد نے ویکسین لگوانے کے بعد احتیاط کرنا چھوڑ دی جس کے باعث وہ وائرس کا شکار ہو گئے۔کمپنی نے بھی ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ویکسین میں وائرس کی موجودگی کا الزام لگایا جا رہا تھا، کمپنی کا کہنا ہے کہ ویکسین کو دفاعی نظام کی وائرس سے لڑنے کی تربیت کیلئے جینیاتی تبدیلی میں وقت درکار ہوتا ہے، یہ عمل ویکسین کے لگتے ہی شروع نہیں ہو جاتا۔ عمومی طور پر دفاعی صلاحیت ہفتہ دس دن میں پیدا ہوتی ہے، اور 50٪ صلاحیت کے حاصل ہوتے ہی وائرس بیمار کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ مک...
کووڈ-19 کی نئی قسم کو لے کر خبروں پر طبی ماہرین کی کڑی تنقید: برطانوی حکومتی دعوؤں کو بھی مبالغہ آرائی قرار دے دیا

کووڈ-19 کی نئی قسم کو لے کر خبروں پر طبی ماہرین کی کڑی تنقید: برطانوی حکومتی دعوؤں کو بھی مبالغہ آرائی قرار دے دیا

طب
کووڈ-19 کورونا وائرس کی نئی اور مزید خطرناک قسم کا دنیا بھر میں پھیلاؤ تیز ہو گیا ہے۔ برطانیہ سے شروع ہونے والے وائرس کے شکار افراد کی آئرلینڈ، لبنان، جاپان، جرمنی، فرانس وغیرہ میں تصدیق ہو چکی ہے۔کورونا کے نئے وائرس کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ذرائع ابلاغ کا پیدا کردہ خوف اور اسے دنیا کا آخیر قرار دینا غلط ہے۔کووڈ-19 کی نئی قسم کا وائرس پہلی بار ستمبر 2020 میں برطانیہ میں سامنے آیا تھا، اور حکومتی اعدادوشمار کے مطابق اس وقت برطانیہ میں کورونا کے دو تہائی مریض نئی قسم کے وائرس کا شکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکومت نے ملک بھر میں تالہ بندی میں مزید سختی اور شدید متاثرہ علاقوں کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جن میں لندن کا جنوب مشرقی علاقہ بھی شامل ہے۔دوسری جانب اب تک 50 سے زائد ممالک نے برطانیہ پر سفری پابندی عائد کر دی ہے، تاہم ماہرین کا کہن...
یورپ میں کووڈ-19 کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ڈھائی کروڑ کا ہندسہ تجاوز کر گئی، 5 لاکھ اموات کیساتھ ہلاکتوں میں بھی براعظم آگے، نئی اور خطرناک قسم نے شہریوں میں خوف بڑھا دیا: عالمی رپورٹ

یورپ میں کووڈ-19 کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ڈھائی کروڑ کا ہندسہ تجاوز کر گئی، 5 لاکھ اموات کیساتھ ہلاکتوں میں بھی براعظم آگے، نئی اور خطرناک قسم نے شہریوں میں خوف بڑھا دیا: عالمی رپورٹ

طب
یورپ میں کووڈ-19 کے شکار افراد کی تعداد ڈھائی کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔ بروز جمعہ فرانسیسی نشریاتی ادارے کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 50 سے زائد ممالک کا براعظم دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے۔کووڈ-19 سے شدید متاثر ہونے میں یورپ کے بعد شمالی امریکہ کا نمبر آتا ہے، جہاں کینیڈا اور ریاست متحدہ ہائے امریکہ میں اب تک مجموعی طور پر ایک کروڑ 91 لاکھ سے زائد، جنوبی امریکہ میں 1 کروڑ 50 لاکھ جبکہ ایشیا میں مصدقہ متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 36 لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں صرف مصدقہ مریضوں کی تعداد ہی زیادہ نہیں بلکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے، جہاں دسمبر 17، تک مجموعی طور پر 5 لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔دوسری طرف وائرس کی نئی اور مزید خطرناک قسم کے بھی برطانیہ میں سامنے آنے نے براعظم میں شہریوں کے خوف میں اضافہ کردیا ہے۔ ...
برطانیہ میں کورونا وائرس کی سامنے آنے والی نئی قسم کے پھیلاؤ کی شرح 70٪ اور یہ بچوں اور جوانوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے: عالمی ادارہ صحت

برطانیہ میں کورونا وائرس کی سامنے آنے والی نئی قسم کے پھیلاؤ کی شرح 70٪ اور یہ بچوں اور جوانوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے: عالمی ادارہ صحت

طب
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا کی نئی قسم بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نبارو کا شمار عالمی ادارہ صحت کے 6 نمایاں ماہرین صحت میں ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی نئی قسم سے مزید مختاط ہونے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً کیونکہ نئی قسم بچوں اور جوانوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے۔ڈاکٹر نبارو کے بیان کی تصدیق وائرس کے ایک اور ماہر ڈاکٹر نے بھی کی ہے۔ مقامی جامعہ سے وابستہ محقق نے کہا ہے کہ بچوں میں بیماری کے تیزی سے پھیلنے سے وباء کا پھیلاؤ روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔صورتحال کو بھانپتے ہوئے برطانیہ میں جنوری میں اسکول کھولنے کے فیصلے پر نظرثانی پر زور دیا جا رہا ہے، اور گھر سے تعلیم کو جاری رکھنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔برطانوی مشیر برائے عوامی صحت سٹیو ایڈمنڈ نے کہا ہے کہ اسکولوں کا دوبارہ کھولنا کورونا متاثرین کی ت...
برطانیہ میں کووڈ-19 کی نئی قسم کا تیزی سے پھیلاؤ: پاکستان سمیت متعدد ممالک نے سفری پابندی عائد کر دی

برطانیہ میں کووڈ-19 کی نئی قسم کا تیزی سے پھیلاؤ: پاکستان سمیت متعدد ممالک نے سفری پابندی عائد کر دی

طب
برطانیہ میں کووڈ-19 کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث دنیا کے متعدد ممالک نے یورپی ملک پر سفری پابندی عائد کر دی ہے، پابندی لگانے والے ممالک میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، پولینڈ، نیدرلینڈ، بیلجیئم، اٹلی، ایران، فرانس، جرمنی، ارجنٹینا، چلی, کینیڈا، مراکش، کویت اور سلواڈور شامل ہیں، جبکہ فہرست میں ہر گھنٹے اضافہ ہو رہا ہے۔ پابندی برطانیہ سے آنے اور جانے والی تمام پروازوں اور دیگر سفری آمدورفت پر لاگو ہے۔دوسری جانب برطانوی حکومت نے بھی کرسمس پر تالہ بندی میں نرمی کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے شہریوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ حکومتی رپورٹوں کے مطابق ملک کے جنوبی حصے میں اس وقت وباء کا پھیلاؤ شدت اختیار کر گیا ہے اور حالات انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر نکل رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ پر سفری پابندی عائد کرنا کس حد تک مددگار ثابت ہو گا اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، کیونکہ بر...
امریکہ: دماغی مغز کھانے والے جان لیوا امیبا کے ملک بھر میں پھیلنے کا انکشاف – کورونا وباء کے دوران امیبا کا شکار بڑھتے مریضوں نے محکمہ صحت پر دباؤ بڑھا دیا

امریکہ: دماغی مغز کھانے والے جان لیوا امیبا کے ملک بھر میں پھیلنے کا انکشاف – کورونا وباء کے دوران امیبا کا شکار بڑھتے مریضوں نے محکمہ صحت پر دباؤ بڑھا دیا

طب
امریکہ میں انسانی دماغی مغز کھانے والے امیبے کے پھیلاؤ نے محکمہ صحت کے لیے نئے مسائل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ امیبا جنوب سے شمال کی طرف میٹھے پانی کے ذخائر کے ذریعے تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے باعث محکمہ صحت پر کورونا وباء کے دوران صحت کے شعبے میں مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق نائیگلیریا فاؤلیری نامی یک خلوی امیبا کا پھیلاؤ ماضی قریب میں ہی شمال کی طرف دیکھا گیا ہے، اس سے قبل اسکا پھیلاؤ ملک کے جنوبی علاقوں میں تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ امیبا کے پھیلاؤ میں پچھلے چار عشروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق اگرچہ گزشتہ ایک دہائی میں فاؤلیری امیبا سے متاثرہ مریضوں کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا، اور یہ ایک خاص حد میں ہے، تاہم اس کے علاقائی پھیلاؤ نے طبی ماہرین کو فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔واضح رہے کہ نائیگلریا فاؤلیری امیبا خطرناک دماغی انفیکش...
ایچ آئی وی کے خلاف بڑی کامیابی: مدافعتی  خلیوں میں جینیاتی تبدیلی سے محققین کا زیادہ مؤثر ویکسین اور دوا بنانے کا دعویٰ

ایچ آئی وی کے خلاف بڑی کامیابی: مدافعتی خلیوں میں جینیاتی تبدیلی سے محققین کا زیادہ مؤثر ویکسین اور دوا بنانے کا دعویٰ

طب
محققین ویکسین بنانے کے نئے طریقے کے ذریعے ایچ آئی وی کے خلاف مصنوعی قوت مدافعت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے جسم سے بیمار خلیوں میں جنیاتی تبدیلی کر کے نئی دوا تیار کی ہے، جسے ایچ آئی وی کے خلاف زیادہ مؤثر اور دیر پا پایا گیا ہے۔چوہوں پر کیے گئے تجربے میں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں، جس سے محققین پرامید ہیں کہ وہ جلد نہ صرف پہلے سے بہتر ویکسین بلکہ بیماری کے خلاف مؤثر دوا تیار کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کامیابی مدافعاتی نظام کے بی خلیے کے جین کو نئے سرے سے ترتیب دے کر حاصل کی ہے۔ سی آر آئی ایس پی آر نامی تکنیک کے ذریعے مریضوں میں ایچ آئی وی کے خلاف اینٹی باڈی پیدا کی گئی ہے جو چند نایاب مریضوں میں پائی گئی تھی۔تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جینیاتی ترتیب بدلنے سے نہ صرف ویکسین کی صلاحیت بڑھی ہے، ...
کووڈ-19 سے متاثرہ شخص 6 ماہ تک دورباہ متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے: نئی تحقیق

کووڈ-19 سے متاثرہ شخص 6 ماہ تک دورباہ متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے: نئی تحقیق

طب
جامعہ آکسفورڈ کی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کووڈ-19 کے شکار افراد صحت یاب ہونے کے بعد کم از کم اگلے 6 ماہ تک دوبارہ حملے سے محفوظ رہتے ہیں، جس کی وجہ جسم میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کا پیدا ہو جانا بتایا جا رہا ہے، اور یہ کم از کم 6 ماہ تک کارگر رہتی ہیں۔کووڈ-19وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے کے حوالے سے تحقیق میں صحت کے شعبے سے وابستہ 12 ہزار افراد نے حصہ لیا، تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 سے متاثرہ افراد آئندہ 6 ماہ کے لیے وائرس سے محفوظ رہتے ہیں، اور یہ ایک بہترین احساس ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی زیر مطالعہ افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بیماری سے متعلق زیادہ سے زیادہ اور درست معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔نومبر میں کی جانے والی ایک اور تحقیق میں سامنے آیا تھا کہ جب تک جسم میں اینٹی باڈیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوتی ہے تواس دوران ٹی-سیل کی مدد سے قوت مدافعت ب...