جمعرات, اکتوبر 29 Live
Shadow

رہن سہن

روسی محققین نے کورونا وائرس کی کمزوری دریافت کر لی

روسی محققین نے کورونا وائرس کی کمزوری دریافت کر لی

روس, طب
روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروہ اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت والےپانی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو درحقیقت قابو کیا جاسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق معمولی درجہ حرارت کے پانی میں کورونا وائرس کے 90 فیصد زرے 24 گھنٹوں میں مر جاتے ہیں جبکہ 99.9 فیصد ذرے 72 گھنٹوں میں مرجاتے ہیں۔سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کی بنیاد ...
بیٹریاں موت بیچنے لگیں، ہر تین میں سے ایک بچےمیں سیسے کی خطرناک مقدار کا انکشاف، اقوام متحدہ کی تنبیہ

بیٹریاں موت بیچنے لگیں، ہر تین میں سے ایک بچےمیں سیسے کی خطرناک مقدار کا انکشاف، اقوام متحدہ کی تنبیہ

طب
اقوامِ متحدہ کے تحت بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے یہ پریشان کن انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تیسرے بچے کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، یعنی دنیا میں 80 کروڑ بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار 5 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زائد دیکھی گئی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں سیسے کی اتنی زیادہ آلودگی سے لاکھوں کروڑوں بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ سیسے کی آلودگی ذہنی اور جسمانی طور پر بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے اوربعد ازاں اس کے اثرات کم بھی نہیں کئے جاسکتے۔یونیسیف اور ایک ماحولیاتی گروپ پیورارتھ نے مشترکہ طور پر کئی ممالک میں سروے کےبعد یہ انکشاف کیا ہے کہ خون میں پانچ مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سیسے کی مقدار محفوظ پیمانے سے بہت زیادہ ہے ۔ اس کیفیت میں بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، دل اور جگر جیسے اعضا کو نقصان ہوسکتا ہے جن میں سے بعض کا ازالہ ممکن بھی...
دارچینی کا استعمال ذیابطیس سے بچانے میں بھی کارآمد: نئی تحقیق

دارچینی کا استعمال ذیابطیس سے بچانے میں بھی کارآمد: نئی تحقیق

طب
گزشتہ 25 برس سے ذیابیطس کو قابو میں رکھنے کے لئے جادوئی مصالحے دارچینی کی افادیت مسلم ہوچکی ہے۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ذیابیطس کی سرحد یعنی پری ڈائبیٹیس کیفیت کے شکار ہیں اگر آج ہی وہ دارچینی کا استعمال بڑھادیں تو بڑٰی حد تک اس مرض سے خود کو دور رکھ سکتے ہیں۔جدید طب بھی یہ اعتراف کرچکی ہے کہ دارچینی کا سفوف معمولی مقدار میں استعمال کرنے سے بھی خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اب ماہرین کہہ رہے کہ اگر آپ ذیابیطس کے قریب ہیں تب بھی دارچینی کا استعمال اس مرض کو آپ سے دور کرسکتا ہے۔تحقیق جرنل آف اینڈوکرائن سوسائٹی کے تحقیقی جریدے میں شائع ہو چکی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی بڑی آبادی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی شکار ہے اور خود پاکستان میں بھی ہرسال لوگوں کی بڑی تعداد ذیابیطس کی مریض بن رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت بڑی آبادی دھیرے دھیرے ذیابیطس کی جانب بڑھ رہی ...
عید پر قربانی کا گوشت کھائیں، مگر ایسے۔۔۔

عید پر قربانی کا گوشت کھائیں، مگر ایسے۔۔۔

طب
ڈاکٹر آصف محمود جاہ - مہمان تحریرعید الاضحی کا تہوار مسلمانوں کے لیے بڑا اہم ہے۔ استطاعت رکھنے والے مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں اور اللہ کے حکم پر سنت ابراہیم کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے اور انکا گوشت تقسیم کرتے ہیں۔ ایسے میں ہر امیر غریب کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عید پر قر بانی کا گوشت جی بھر کے کھائے۔عیدکے دنوں میں ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا بھی رش ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریض زیادہ گوشت کھانے کی وجہ سے بد ہضمی، تیزابیت، معدے میں جلن، پیٹ میں اپھارہ، قبض یا ڈائریاکا شکار ہو کر ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں۔ قربانی ہونے کے ساتھ ہی گھروں میں کلیجی پکائی جاتی ہے۔ قربانی کی کلیجی بہت لذیذ ہوتی ہے۔ مگر اسے کھاتے وقت احتیاط لازم ہے۔ ایک تو کلیجی بڑے اچھے طریقے سے پکی ہونی چاہیے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ کلیجی سو فیصد کولسٹرول اور چربی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے دل اور بلڈ پریشر کے مریض تو کلی...
کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے : عالمی ادارہ صحت

کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے : عالمی ادارہ صحت

coronavirus, COVID-19, Health & Family, news, Urdu, world عالمی خبریں, اردو نیوز, صحت و خوراک, کورونا, معلومات عامہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کو ‘ایک بڑی لہر’ قرار دیتے ہوئے شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کے دوران وبا کی منتقلی سے متعلق خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس انفلوئنزا کی طرح نہیں جو موسمی رجحانات کی پیروی کرے۔برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں ورچوئل بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار مارگریٹ ہیریس نے کہا کہ لوگ تاحال موسموں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، لیکن ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نیا وائرس ہے اور یہ مختلف طرح سے برتاؤ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی وبا کی پہلی لہر ہے، یہ ‘ایک بڑی لہر’ بننے جارہا ہے، اس میں اتار چڑھاؤ آئیں گے لہٰذا یہی بہتر ہے کہ سخت احتیاط برتی جائے تاکہ اس وبا کا خاتمہ کردیا جائے۔مارگریٹ ہیرس نے امریکہ میں گرمی کے موسم کے باوجود بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وائرس کی سست منتقلی کے لیے اقدامات ...
روسی کھلاڑیوں کو جیت کی خوشی میں اچھلنا کودنا مہنگا پڑ گیا: جیتا ہوا انعام توڑ بیٹھے

روسی کھلاڑیوں کو جیت کی خوشی میں اچھلنا کودنا مہنگا پڑ گیا: جیتا ہوا انعام توڑ بیٹھے

کھیل
روس کے مقامی فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل کی تقریبات میں اس وقت بدمزگی پیدا ہو گئی جب جیتنے والی ٹیم کے کپتان برینسلاف ایوانووک جیت کی خوشی میں اچھلتے کودتے جیتی ہوئی ٹرافی توڑ بیٹھے۔https://www.youtube.com/watch?v=pIzHOOCFbLsفائنل میں زیڈ ایس پیٹرزبرگ نے کھیمکی کلب کو 0-1 سے مات دی تھی، جس کے بعد فتح کا جشن مناتے کپتان ایوانووک کے ہاتھوں سے ٹرافی زمین پر گری اور ٹوٹ گئی۔بعد ازاں کلب کی جانب سے معذرت خواہانہ ٹویٹ میں کہا گیا کہ ہم آپ سب سے معذرت خواہ بھی ہیں۔ ...
دو دہائی قبل کی تحقیق سے کورونا کے علاج میں مدد: تین برطانوی ڈاکٹر راتوں رات کروڑ پتی بن گئے

دو دہائی قبل کی تحقیق سے کورونا کے علاج میں مدد: تین برطانوی ڈاکٹر راتوں رات کروڑ پتی بن گئے

طب
کورونا وائرس کے علاج سے متعلق اہم پیش رفت کی وجہ سے تین برطانوی پروفیسر راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق کورونا کے علاج کے سلسلے میں جاری تحقیق میں ایک مقامی جامعہ کے شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے تین پروفیسروں کی دو دہائیوں قبل کی گئی تحقیق سے کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پروفسیر راتکو جوکانووک، اسٹیفن ہولگیٹ اور ڈونا ڈیوس نے تقریباً بیس سال قبل اس بات کا سراغ لگایا تھا کہ دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد میں انٹرفیرون بیٹا نامی پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔ تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے کورونا کا علاج دریافت کرنے میں طبی ماہرین کو مبینہ کامیابی حاصل ہو گئی ہے، اور تیار کردہ دوا کی آزمائش شروع کر دیی گئی ہے۔تاہم انڈرفیرون بیٹا نامی پروٹین پر تحقیق کرنے والے محققیق راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ ...
آلودگی اور دل کے امراض میں گہرا تعلق ثابت

آلودگی اور دل کے امراض میں گہرا تعلق ثابت

رہن سہن
طبی ماہرین صحت نے مختلف ممالک میں تحقیق کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ آلودگی میں معمولی کمی سے بھی دل کے مرض سے متعلق خدشات میں واضح کمی واقع ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 سے 70 برس کی عمر کے 1 لاکھ 57 ہزار شرکاء پر تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آلودگی میں دس مائیکرو گرام فی مربع میٹر کا اضافہ بھی دل کے تکلیف کے واقعات میں 5 فیصد تک اضافہ کرتا ہے۔محققین کے مطابق پی ایم دو اعشاریہ پانچ آلودگی دو اعشاریہ پانچ مائیکرون حجم کے ذرات کے باعث پیدا ہوتی ہے ۔ ان ذرات کا حجم اتنا معمولی ہوتا ہے کہ یہ با آسانی سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں، جہاں مستقل سوزش کا باعث بن کر یہ دل کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین آلودگی کو خاموش قاتل بھی قرار دے رہے ہیں، اور عوامی سطح پر آگاہی اور اقدامات کے لیے تجاویز پیش کرتے ہیں۔...
خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی  پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خاندان و معاشرہ, نظامت
محققین کے مطابق سن 2064 کے بعد دنیا کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی تاہم عالمی شرحِ تولید میں ہونے والی اس ’حیرت انگیز‘ کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا پوری طرح سے تیار نہیں ہے۔تحقیق کے مطابق اگر موجودہ سیاسی نظام ہی جاری رہا تو اس صدی کے اختتام تک ہر ملک کی آبادی میں کمی واقع ہو گی اور 23 ممالک کی آبادی، جن میں سپین اور جاپان بھی شامل ہیں، سنہ 2100 تک آدھی رہ جائے گی۔ جسکا بلاواسطہ مطلب یہ بھی ہے کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا اور بہت سے شہری 80 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہوں گے۔ماہرین کے مطابق اس کا سبب کچھ اور نہیں بلکہ عورتوں کی شرح تولید میں کمی یعنی بچوں کو نہ پیدا کرنے کے رحجان کا پروان چڑھنا ہے۔ اگر ایک عورت کے بچے جننے کی شرح 2.1 سے کم ہو جائے تو آبادی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔سنہ 1950 میں ایک عورت زندگی میں اوسطاً 4.7 بچوں کو جنم دی...
چین کورونا سے پہلے ہی واقف تھا : چینی سائنسدان  ڈاکٹر لی مینگ ین

چین کورونا سے پہلے ہی واقف تھا : چینی سائنسدان ڈاکٹر لی مینگ ین

COVID-19, news, Urdu, world عالمی خبریں, اردو نیوز, چین, طب, عالمی, کورونا
چینی حکومت کو کوروناوائرس کے حوالے سے پہلے ہی معلومات تھیں مگر اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ چین نے اس کے حوالے سے معلومات بھی دنیا سے چھپائیں۔ اس بات کا دعویٰ ہانگ کانگ کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے شعبہ وائرولوجی کی سائنسداں اور امیونولوجی کی ماہر ڈاکٹر لی مینگ ین نے امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔واضح رہے کہ اس حوالے سے لی مینگ ین نے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس نے عالمی وبا سے آگاہ ہونے کے باوجود اس سمت میں کوئی درست اور بر وقت قدم نہیں اٹھایا۔ یہ دسمبر میں ہی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ وائرس انسانوں میں پھیل کر ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ڈاکٹر کا عالمی ادارہ صحت کے مشیر پروفیسر ملک پیرس، جو ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ منظور شدہ ایک لیبارٹری کے شریک ڈائریکٹر بھی ہیں، کے حوالے سے کہنا تھا کہ جب چینی حکومت نے کور...